کل جمعہ کو نماز فجرمیں ہزاروں فلسطینیوں نے اسرائیلی فوج اور پولیس کی طرف سے کھڑی کی گئی رکاوٹیں توڑ کر قبلہ اول میں نماز جمعہ ادا کی۔
نماز فجرسے قبل ہی فلسطینیوں کی بڑی تعداد قبلہ اول میں جمع ہونا شروع ہو گئی تھی۔
فلسطینی شہری قبلہ اول میں نمازوں کی ادائی کے ثواب کے علاقہ مسجد اقصیٰ کے ساتھ اپنا تعلق مضبوط بنانے ، حرم قدسی سے رابط مستحکم کرنے اور قابض ریاست کے حرم قدسی کو یہودیانے کے جرائم کا مقابلہ کرنا ہے۔
فلسطینیوں کی بڑی تعداد نے کل نماز فجر میں ایک ایسے وقت میں با جماعت نماز ادا کی جب دوسری طرف یہودی شرپسندوں کی جانب سے قبلہ اول کو یہودیانے کے لیے آباد کاروں کے دھاووں میں اضافہ ہو رہا ہے۔
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار