جمعے کی شام مقبوضہ فلسطینی شہر یافا میں بیس سال کی عمر کے ایک فلسطینی نوجوان کو بے دردی کے ساتھ قتل کر دیا گیا۔ قابض پولیس کو اس کی جلی ہوئی لاش تل ابیب کے ایک پارک سے ملی۔
مقامی ذرائع نے کہا کہ یہ نوجوان محمد رفیع کئی دن پہلے لاپتہ تھا۔ اس کے اغوا، ہتھکڑیاں لگانے اور تل ابیب کے جنوب میں ایک پارک میں آگ لگانے کے بارے میں شبہات پیدا ہوئے تھے۔
لاش کو ابو کبیر (یافا کا ایک محلہ) کے فرانزک میڈیسن انسٹی ٹیوٹ کے حوالے کر دیا گیا جہاں پوسٹ مارٹم کے بعد اس کی موت کی وجہ معلوم کی جاسکے گی۔
اسرائیلی عدالت نے 18 جنوری تک تفتیش، یا مشتبہ افراد کی شناخت کو عام کرنے سے روکنے کا حکم جاری کیا ہے فوجداری تحقیقات نے اب تک جرم کے حالات کا انکشاف نہیں کیا ہے۔
خیال رہے کہ سنہ1948ءکے مقبوضہ عرب علاقوں میں انتہا پسند یہودیوں کے ہاتھوں فلسطینیوں کے قتل عام کا سلسلہ معمول بن چکا ہے۔ فلسطینیوں کی نسل کشی کے ان مجرمانہ واقعات میں اسرائیلی ریاست کی منظم چشم پوشی اور دانستہ لاپرواہی واضح دکھائی دیتی ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار
غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں میں بے گھر افراد کے خیموں کو نشانہ بنایا گیا…
قومی مفادات اور ایرانی عوام کی زندگی کو کسی دوسرے ملک یا قوم کے مفادات…