نائیجیریا میں مسلح افراد نے ایک مسجد کے اندر گھس کر اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں 18 نمازی شہید ہوگئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نائیجیریا کی ریاست نائیجر کے علاقے مزاکوکا کی ایک مسجد میں نماز فجر کے دوران مسلح افراد گھس آئے اور اندھا دھند فائرنگ کردی۔
مسجد میں فائرنگ سے پیش امام سمیت 18 نمازی شہید اور 4 زخمی ہوگئے۔ حملہ آوروں کا تعلق اقلیتی شدت پسند گرپ فولانی سے بتایا جاتا ہے جو اس سے قبل بھی گاؤں پر حملوں اور لوٹ مار میں ملوث رہے ہیں۔
نائیجر پولیس کا کہنا ہے کہ اقلیتی مسلم گروپ فولانی کے شدت پسندوں اور مقامی دیہاتوں کے درمیان کافی عرصے سے تنازع چلا آرہا تھا اور یہ واقعہ اسی تنازعے کا شاخسانہ ہے۔
مسلح حملہ آور فائرنگ کے بعد بآسانی فرار ہوگئے جن کی تلاش میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مشترکہ سرچ آپریشن کا آغاز کردیا ہے تاہم کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی ہے۔
نائیجیریا کی فولانی نسل اقلیتی مسلم گروپ ہے جو زیادہ تر خانہ بدوشوں پر مشتمل ہیں اور کچھ عرصے سے اس گروپ کے شدت پسند جنگجو دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں۔
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید