اسرائیل نے یہودیوں کو مسجد الاقصی کے احاطے میں ’خاموشی‘ سے عبادت کی اجازت دے دی ہے جس سے اس مقدس مقام کی حیثیت تبدیل ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا۔
امریکی اخبار ’’نیویارک ٹائمز‘‘ کے مطابق اسرائیل نے مقبوضہ بیت المقدس کے احاطے میں اس مقام پر یہودیوں کو خاموشی سے عبادت کرنے کی اجازت دے دی ہے، جسے یہودیوں میں حرم قدسی شریف کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ جس سے اس مقدس مقام کی حیثیت تبدیل ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ جگہ یروشلم کے دیواروں میں گھرے پرانے شہر میں اس علاقے کا حصہ ہے جس پر اسرائیل نے 1967ء کی مشرق وسطی جنگ میں قبضہ کیا تھا۔ اس کے بعد 1980ء میں اسرائیل مشرقی یروشلم پر قابض ہوا اور اس کے اس اقدام کو کبھی بھی بین الاقوامی برادی کی جانب سے تسلیم نہیں کیا گیا۔
سال 1967ء سے اردن اور اسرائیل اس بات پر متفق ہیں کہ وقف (اسلامی ٹرسٹ) اس احاطے کے اندرونی معاملات کی دیکھ بھال کرے گا، جب کہ اسرائیل اس کی داخلی سیکیورٹی کو کنٹرول کرے گا۔ غیر مسلموں کو اس احاطے میں داخلے کی اجازت صرف مختص کردہ اوقات میں دی جاتی ہے، لیکن غیر مسلم اس مقام پر عبادت نہیں کرسکتے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ربی یہودا گلک جو کہ ایک امریکی نژاد دائیں بازو کے سابق قانون ساز ہیں اس مقدس جگہ کو کئی دہائیوں سے حاصل حیثیت کو مذہبی آزادی کی آڑ میں ختم کرنے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔ گلک کا کہنا ہےکہ اس جگہ کی حیثیت کو تبدیل کرنے کی پالیسی کا آغاز سابق اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے دور میں ہی ہوگیا تھا۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…