بیرجند (سنی آن لائن) ایران کے صوبہ خراسان جنوبی سے تعلق رکھنے والے ممتاز عالم دین مولانا خواجہ عبدالواحد احرار طویل علالت کے بعد پیر تین مئی دوہزار اکیس میں انتقال کرگئے، انا للہ و انا الیہ راجعون۔
سنی آن لائن کی رپورٹ کے مطابق، مولانا احراری کی نماز جنازہ ان کے آبائی شہر ’گزیک‘ میں پڑھی گئی جو ضلع درمیان میں واقع ہوا ہے۔ گزیک ایک تاریخی علاقہ ہے جو بیرجند سے قریب ہے۔
93 سالہ مولانا عبدالواحد احراری نے ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں میں حاصل کرنے کے بعد اعلی دینی تعلیم کے لیے ہرات کا رخ کیا جو اس وقت اہل خراسان کے لیے ایک علمی شہر تھا۔آپؒ نے دس سال ہرات میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد واپس اپنے وطن آئے اور فیض آباد کے علاقے سے دینی خدمات کا آغاز کیا۔
مولانا احراری کو یہ سعادت حاصل تھی کہ انہوں نے پہلی دفعہ اہل سنت ایران کے حاجیوں کے گروپ کو سرپرستی کی اور انیس سالوں تک ہر سال سنی حاجیوں کی رہنمائی کے لیے ان کے ساتھ حج پر گئے۔
آپؒ نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ زاہدان (ایرانی بلوچستان کا صدرمقام) میں گزارا۔ آپ نے مولانا عبدالعزیز رحمہ اللہ، بانی دارالعلوم زاہدان، کے کہنے پر زاہدان آئے اور ان کے خیام ٹاؤن شفٹ ہونے کے بعد نور مسجد کے امام بنے جو زاہدان کی پرانی مسجدوں میں شمار ہوتی ہے۔
مولانا احراری رحمہ اللہ نے متعدد عربی اور فارسی کتابیں بھی لکھی ہیں۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ سات مئی کو زاہدان میں خطاب کرتے ہوئے مولانا احراری کے انتقال پر ملال پر گہرے افسوس کا اظہار کیا اور انہیں مولانا عبدالعزیز ؒ کے خاص ساتھیوں میں یاد کیا۔
رسولِ اکرم ﷺ کا میلاد «نور و رحمت کا میلاد» اور «انسانیت پر اللہ تعالیٰ…
صوبے اور ملک میں انتہاپسندی سے کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوا اور نہ ہی ہوگا؛…
سنی بلوچ علما کے خلاف بڑھتے ہوئے سکیورٹی دباؤ اور تعاقب کے درمیان گزشتہ دنوں…
سیستان و بلوچستان کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے اشتعال انگیز بیانات پر علما، قبائل اور…
زم زم کا پانی روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان اور لا زوال…
غزہ میں درجنوں فلسطینی صحافیوں نے پیر کے روز الجزیرہ چینل سے وابستہ اپنے 6…