افغانستان سے مہلت ختم ہونے کے باوجود امریکی فوجی انخلا نہ ہونے پر طالبان نے صوبہ ہلمند میں افغان فورسز پر حملوں کا آغاز کردیا۔
ہلمند کی صوبائی کونسل کے سربراہ عطااللہ افغان نے کہا کہ طالبان نے مختلف سمتوں سے حملے کیے ہیں۔ طالبان نے ہلمند کے دارالحکومت لشکر گاہ کے گرد و نواح میں فوجی چوکیوں کو نشانہ بنایا ہے اور ان میں سے کچھ پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوگئے۔
افغان فضائیہ نے چوکیوں سے طالبان کا قبضہ چھڑانے کے لیے فضائی حملے کیے ہیں اور ان علاقوں میں ایلٹ کمانڈو فورسز تعینات کردی ہیں۔ ہلمند میں شدید جھڑپیں ہورہی ہیں جس کے نتیجے میں سیکڑوں خاندان محفوظ مقام کی طرف نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔
ہلمند خطے میں پناہ گزینوں کے امور کے ڈائریکٹر سید محمد رامین نے بتایا ہے کہ لشکر گاہ کے نواح میں اب تک ایک ہزار سے زائد کنبے اپنا گھر چھوڑ چکے ہیں۔
علاوہ ازیں کابل شہر میں طبی عملے کی بس پر بم حملہ ہوا جس میں ایک شخص ہلاک اور 3 زخمی ہوگئے۔ دوسری جانب صوبہ پکتیکا میں سیکیورٹی فورسز کی گاڑی پر سڑک کنارے نصب بم حملہ ہوا جس میں ضلعی پولیس چیف جمعہ شاہ ہلاک اور اس کے 3 محافظ زخمی ہوگئے۔ واقعے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کرلی۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان