عالم اسلام

طالبان سے مذاکرات میں مستقل جنگ بندی پر زور دیں گے: افغان نائب صدر

افغانستان کے نائب صدر امراللہ صالح کا کہنا ہے کہ جب طالبان کے ساتھ مذاکرات شروع ہوں گے تو مستقل جنگ بندی پر زور دیا جائے گا۔ انہوں نے فریقین کے درمیان مذاکرات کے طول پکڑ جانے کے امکان کی طرف بھی اشارہ کیا۔
دوحہ مذاکرات شروع ہونے کے لیے کوئی تاریخ اب تک طے نہیں کی گئی لیکن دونوں فریقوں نے اشارہ کیا ہے کہ ان کے مابین متنازع ترین مسئلہ قیدیوں کا تبادلہ ہے، جسے مکمل کرنے کے بعد ہی بات چیت کا آغاز ہوسکتا ہے۔
اتوار کو امر اللہ صالح نے کہا کہ امن کے مذاکرات کار مستقل طور پر جنگ بندی کے لیے زور دے رہے ہیں اور یہیں سے امن کے بارے میں طالبان کی سنجیدگی کا پتہ چل سکے گا۔
امراللہ صالح نے افغانستان کے نجی چینل طلوع نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘طالبان کے لیے پہلا امتحان جنگ بندی ہے۔ اگر وہ جنگ بندی قبول کرتے ہیں تو ظاہر ہے وہ امن چاہتے ہیں۔ اگر نہیں تو وہ یہ نہیں چاہتے۔’
امراللہ صالح نے کہا کہ تمام منطقی معاملات حل ہونے کے بعد افغان وفد دوحہ جائے گا۔
انہوں نے کہا: ‘ہم اس وقت تک نہیں جائیں گے جب تک مذاکرات کے لیے ہم سب کچھ طے نہ کر لیں۔ اس میں ہمارا ڈیسک، ہمارا جھنڈا اور ایک دوسرے کو مخاطب کرنے کے لیے سفارتی طریقہ کیا ہو گا، یہ سب شامل ہے۔’
‘یہ اب علامتوں کی جنگ ہے اور ہم اس سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ ہمیں یقین دہانی چاہیے ہو گی کہ ہمارا احترام کیا جاتا ہے۔ ہم کسی قسم کے دباؤ کا مقابلہ نہیں کریں گے۔’
امراللہ صالح نے کہا کہ مذاکرات کے آغاز میں تاخیر کچھ عسکریت پسندوں کی رہائی کی مخالفت سے ہوئی۔
انہوں نے فرانس اور آسٹریلیا کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا، ‘ہمیں اپنے اتحادی ممالک کی بلیک لسٹ میں شامل قیدیوں کے متعلق فیصلہ کرنا تھا۔ پیرس اور کینبرا نے اپنے شہریوں اور فوجیوں کے قتل میں ان قیدیوں کے ملوث ہونے کی وجہ سے اعتراض کیا۔ اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ ان قیدیوں کو ایک خاص مدت کے لیے قطر بھیجا جائے گا۔’
فروری میں طالبان اور واشنگٹن کے مابین ایک معاہدے پر اتفاق رائے کے تحت مارچ میں ابتدائی طور پر بات چیت کا آغاز ہونا تھا لیکن مجموعی طور پر قیدیوں کے تبادلے میں حائل رکاوٹوں کی وجہ سے مذاکرات میں تاخیر ہوئی۔
امریکی طالبان معاہدے میں یہ طے کیا گیا تھا کہ کابل ایک ہزار افغان فوجیوں کی رہائی کے بدلے پانچ ہزار عسکریت پسندوں کو رہا کرے گا۔ یہ تبادلہ گذشتہ ہفتے مکمل ہوا۔
امراللہ صالح نے کہا کہ یہ مذاکرات طویل عرصے تک طول کھینچ سکتے ہیں۔ ‘ہم مذاکرات کو ہفتوں یا مہینوں تک محدود نہیں رکھیں گے نیز ہمیں کوئی ٹائم ٹیبل بھی قبول نہیں ہو گا۔’

baloch

Recent Posts

“پابندیوں میں اضافہ”، “طویل جنگ” اور “پرانی پالیسیوں پر اصرار” ملک کو مزید بحرانوں کی طرف دھکیل رہے ہیں

"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…

4 days ago

لاہور ہائیکورٹ کا افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نہ نکالنے کا تحریری حکم آگیا

لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…

4 days ago

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

1 week ago

حقوق انسانی، عالمی منشور اور سیرتِ نبویﷺ

مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…

2 weeks ago

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں بول پڑے

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…

2 weeks ago

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

2 weeks ago