دوحہ میں طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے امریکی صدر کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان سے عالمی افواج کا قبضہ ختم ہونے تک امن قائم نہیں ہوسکتا۔
قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی سے خصوصی بات کرتے ہوئے امریکی فوج کے افغانستان میں ہمیشہ موجودہ رہنے کے تاثر کی نفی کرتے ہوئے کہا کہ 18 سال سے ہم قربانی اس لیے دیتے آئے ہیں کہ افغانستان سے امریکی اور بین الاقوامی افواج کا قبضہ ختم ہو۔
طالبان ترجمان سہیل شاہین نے مزید کہا کہ دوحہ میں ہونے والے مذاکرات میں بھی امریکی وفد کے ارکان اسی لیے بیٹھے ہیں تاکہ افغانستان سے بین الاقوامی افواج کا قبضہ ختم ہو اور ہمارے درمیان اسی تناظر میں مذاکرات بھی جاری ہیں جس میں اکثر ہی نکات پر اتفاق ہوگیا ہے اور اب انشااللہ ہفتوں کی نہیں بلکہ دنوں کی بات ہے۔
دو روز قبل ترجمان طالبان سہیل شاہین نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا تھا کہ افغان طالبان اور امریکا کے درمیان معاہدہ تکمیل کے قریب پہنچ گیا ہے اور بہت جلد عالمی افواج سے آزادی کے خواہش مندعوام کو خوشخبری دیں گے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز کو انٹرویو میں کہا تھا کہ افغانستان میں تعینات امریکی افواج کی سطح کو کم کر کے 8 ہزار تک کیا جا رہا ہے تاہم ہم وہاں اپنی موجودگی کو ہمیشہ برقرار رکھیں گے۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…