۱: عورت کے لیے حیض و نفاس کی حالت میں روزے رکھنا جائز نہیں، ان ایام میں جتنے روزے نہ رکھے ہوں ان کی قضا رکھنا ضروری ہے۔ (ردالمحتار علی الدرالمختار، حاشیۃ الطحاوی علی المراقی، فتاویٰ رحیمیہ)
۲: جس عورت کو روزے کی حالت میں ماہواری آجائے تو اس کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے، اس کے ذمے اس دن کے روزے کی قضا رکھنا ضروری ہے، اور ایسی عورت افطار تک کھا پی سکتی ہے۔ (ردالمحتار، ماہ رمضان کے فضائل و احکام، فتاویٰ رحیمیہ)
۳: کوئی عورت دن کو ماہواری سے پاک ہوگئی تو وہ اس دن روزہ تو نہیں رکھ سکتی، البتہ افطار تک روزے داروں کی طرح کچھ کھائے پیے گی نہیں، اور اس دن کے روزے کی قضا رکھے گی۔ (رد المحتار، ماہ رمضان کے فضائل و احکام، فتاویٰ رحیمیہ)
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان