طالبان ڈپٹی لیڈر ملا عبدالغنی برادر، امریکا سے مذاکرات کے لیے قطر پہنچ گئے۔
امریکی میڈیا کے مطابق ملا عبدالغنی برادر اتوار کو دوحا پہنچے ہیں، ملا برادر امن مذاکرات میں حصہ لیں گے۔
ترجمان طالبان ذبیح اللہ کا کہنا ہے کہ طالبان اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا ایک اور دور پیر سے شروع ہو رہا ہے۔
پہلے ادوار کے ایجنڈے کی طرح افغانستان پر قبضے کا خاتمہ اور افغانستان کو نقصان سے بچانا اس بار بھی ایجنڈا کا حصہ ہیں۔
جبکہ طالبان امریکا کو اس بات کی ضمانت دینگے کہ آئندہ افغان سرزمین دہشتگردوں کو استعمال کرنے نہیں دیا جائے گا۔
گو کہ ان مذاکرات میں اب تک کابل میں موجود افغان حکومت شامل نہیں ہوئی ہےتاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس حوالے حتمی معاہدہ کے لیے یہ ضروری ہوگا کہ طالبان، افغان حکومت سے ملیں اور جنگی بندی کا اعلان کریں۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان