انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق شام میں شدت پسند گروپ”داعش” کے خلاف جاری کارروائیوں میں 32 عام شہریوں سمیت مزید 38 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
انسانی حقوق کے ادارےسیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کی طرف سے جاری کی گئی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکا کی قیادت میں قائم عالمی اتحادی فوج نے منگل کے روز دیر الزور کے نواحی علاقے میں داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کی جس کے نتیجے میں 32 عام شہریوں سمیت 38 افراد مارے گئے۔
انسانی حقوق آبزر ور رامی عبدالرحمان کے طمابق اتحادی فوج کی بمباری میں شدت پسند گروپ سے وابستہ جنگجوئوں کے خاندانوں کے 22 افراد مارے گئے۔ ان میں سے چار بچے شامل ہیں۔ خیال رہے کہ دیر الزور کے علاقوں میں سیرین ڈیموکریٹک فورسز سرگرم ہے اور امریکا اور اتحادی اس کی حمایت کرتے جب کہ ترکی کی جانب سے اس گروپ کے خلاف کارروائیوں کےبعد ڈیموکریٹک فورسز نے داعش کے خلاف آپریشن روک دیا ہے۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان