بلوچستان میں حصول علم کیلئے کوشاں طالب علم بنیادی سہولیات سے محروم ہیں ،صوبے کےتیرہ ہزارچھ سوپچھتراسکولوں میں سے دس ہزارپچپن اسکولوں میں پینے کا پانی ہی دستیاب نہیں ہےجبکہ سات ہزار نوسوگیارہ اسکولوں میں بیت الخلا کی سہولت تک نہیں ہے ۔
بلوچستان جہاں پچھلی تینوں حکومتوں کے ادوار میں تعلیم کو پہلی ترجیح حاصل رہی،تعلیمی ایمرجنسی لگاکرکا غذات میں ہی دو سو ارب روپے اس شعبے پر خرچ کرڈالے مگر صوبے کے طالب علموںکو کچھ نہ ملا۔صوبے کے 5840اسکولز چار دیواری ،8927اسکولز بجلی اور 13333اسکولز سوئی گیس کی سہولت سے محروم ہیں۔
بلوچستان کی بارہ ہزار آبادیاں ایسی ہیں جہاں اب تک اسکول نہیں ہیں ، صوبے کے 1800 پرائمری اسکول بغیر چھت کے قائم ہیں۔
صوبے کےتعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ صوبے کی نئی حکومت کو جہاں صوبے کے طالب علموں کو سہولیات کی فراہمی کیلئے اقدامات کرنا ہوں گےوہاں اسکولوں سے باہر بارہ لاکھ بچوں کو اسکولوں میں لانے کیلئے سنجیدہ کوششیں کرنا ہوں گی۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید