سیریک (سنی آن لائن) صوبہ ہرمزگان کے شہر سیریک کے مضافات میں واقع ایک دینی مدرسہ پر چھاپہ مارتے ہوئے سکیورٹی اہلکاروں نے تین بلوچ علمائے کرام کو گرفتار کیا ہے۔
مقامی ذرائع نے سنی آن لائن کو بتایا بدھ سترہ اکتوبر کو سکیورٹی اہلکاروں نے قلمویی بستی میں واقع مدرسہ تعلیم القرآن کو محاصرہ کرکے بعض دفاتر کی تفتیش کی۔ اہلکاروں نے مدرسے کے مہتمم مولوی ہاشم جعفرزادہ کے علاوہ مولوی احمد قلندری اور مولوی ایوب احمدی کو بھی گرفتار کیا ہے۔
سکیورٹی حکام نے گرفتار علما کے گھروں کی بھی تلاشی لی ہے اور ان کی بعض کتابوں کے علاوہ کمپیوٹر و دیگر ذاتی اشیا کو اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔
بعض اطلاعات کے مطابق، مولوی احمد قلندری کو چند گھنٹوں کے بعد چھوڑدیا گیاہے۔ لیکن دیگر اساتذہ ابھی تک حساس اداروں کی تحویل میں ہیں۔ ان کی گرفتاری کی وجہ ابھی تک نامعلوم ہے؛ اس حوالے سے کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیاہے۔
واقعے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ہرمزگان کے مشرقی اضلاع (جاسک، سیریک، میناب) کے سرکردہ علمائے کرام نے ضلع سیریک کے گورنر سے ملاقات کی ہے اور اپنے تحفظات کا اظہار کیاہے۔ جمعرات کو دوسری بار علما کے ایک وفد نے متعلقہ حکام سے ملاقات کرکے اس واقعے کے خلاف احتجاج کیا ہے۔
مولانا راشد بندار نے گورنر سے بات کرتے ہوئے کہا ہے علمائے کرام اس واقعے کو اپنی توہین سمجھتے ہیں اور گرفتار علما کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔
قلمویی کے مدرسہ تعلیم القرآن کا شمار صوبہ ہرمزگان کے ممتاز اور سرگرم دینی مدارس میں ہوتاہے جو قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کام کرتاہے۔
صوبہ ہرمزگان کے مشرقی اضلاع میں زیادہ تر آبادی بلوچ برادری کی ہے۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان