فرانس میں الجزائر سے تعلق رکھنے والی مسلم خاتون کو سرکاری افسر سے ہاتھ ملانے سے انکار پر شہریت دینے سے انکار کر دیا گیا۔
غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق الجزائر سے تعلق رکھنے والی مسلم خاتون نے فرانسیسی شہری سے 2010 میں شادی کی تھی جب کہ اپریل 2017 میں شہریت کے لئے درخواست دی۔ فرانس کے جنوب مشرقی علاقے ایسرے میں منعقدہ ایک تقریب میں مسلم خاتون کو ملک کی شہریت دی جا رہی تھی۔ اس موقع پر تقریب کے صدر اور ایک مقامی سیاسی رہنما نے ہاتھ ملانا چاہا تو خاتون نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ میرے مذہبی عقائد اس بات کی اجازت نہیں دیتے۔
حکومت نے واقعے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ خاتون کا رویہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ ’فرانسیسی معاشرے میں ضم ہونا نہیں چاہتی‘، ایسا عمل سول کوڈ کے تحت کسی بھی فرانسیسی شہری کے شریک حیات کو ملک کی شہریت دینے کی اجازت نہیں دیتا۔ فرانس کی حکومت کے خاتون کو شہریت نہ دینے کے فیصلے کو ملکی اعلیٰ انتظامی عدالت نے بھی برقرار رکھا ہے۔
دوسری جانب خاتون نے فیصلے کو’اختیارات کا غلط استعمال‘ قرار دیا ہے۔ تاہم ایسے معاملات کی حتمی سماعت کرنے والی عدالت کونسل آف اسٹیٹ کا مؤقف ہے کہ حکومت نے ’’قانون کا غلط استعمال‘‘ نہیں کیا۔
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام