سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مندرجہ ذیل مسائل کے بارے میں کہ
1..کسی سے وضو کروانے پر قادر شخص تیمم کرکے نماز ادا کرتا رہا، اس کی نمازیں ہوں گی؟
2..تیمم کرنے والا نجاست کیسے دور کرے؟ کپڑے یا بدن سے؟
جواب…1.. واضح رہے کہ کسی سے وضو کروانے پر قادر شخص کو اگر خادم میسر ہو ، یا ایسا کوئی معاون کہ مدد طلب کرنے پر وہ اس کے ساتھ تعاون کرتا، تو اس طرح کا شخص وضو پر قادر شمار ہو گا، اس پر وضو کرنا لازم ہے اور اس کا تیمم کرنا درست نہیں ہے، وہ نمازیں جو اس نے تیمم سے ادا کی ہیں، ان کا اعادہ کرے گا۔
2..تیمم کرنے والا پانی یا اس کے متبادل پاک چیز کے ذریعے سے اپنے جسم یا کپڑوں سے نجاست دور کرے، اگر کسی بھی طریقے سے وہ نجاست دور کرنے پر قادر نہ ہو تو اسی حالت میں نماز ادا کرے۔
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
رسولِ اکرم ﷺ کا میلاد «نور و رحمت کا میلاد» اور «انسانیت پر اللہ تعالیٰ…
صوبے اور ملک میں انتہاپسندی سے کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوا اور نہ ہی ہوگا؛…
سنی بلوچ علما کے خلاف بڑھتے ہوئے سکیورٹی دباؤ اور تعاقب کے درمیان گزشتہ دنوں…
سیستان و بلوچستان کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے اشتعال انگیز بیانات پر علما، قبائل اور…
زم زم کا پانی روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان اور لا زوال…
غزہ میں درجنوں فلسطینی صحافیوں نے پیر کے روز الجزیرہ چینل سے وابستہ اپنے 6…