شمال مشرقی شام میں امریکی فضائی حملے میں کم از کم دو روسی جنگجو ہلاک ہوگئے، تاہم روس نے ابھی تک ان اموات کی تصدیق نہیں کی۔
برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق ان جنگجوؤں کوشامی حکومت کی حامی ایک نجی فوجی کمپنی نے بھرتی کیا تھا۔
امریکی حکام نے کہا ہے کہ شامی صدر بشار الاسد کے حامی سیکڑوں جنگجوؤں نے دیر الزور صوبے میں خورشام قصبے کے قریب امریکی حمایت یافتہ تنظیم سیریئن ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے اڈے پر حملہ کیا۔
جب انہوں نے دریائے فرات عبور کر کے ایس ڈی ایف کے اڈے پر گولہ باری شروع کی اس وقت وہاں امریکی مشیر موجود تھے۔
امریکی حکام نے بتایا کہ امریکا نے اس کے جواب میں سات فروری کو بمباری کے یہ حملہ پسپا کر دیا تھا۔
شام کے سرکاری میڈیا نے درجنوں ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے اسے ’وحشیانہ قتلِ عام‘ قرار دیا۔
اسی دوران روسی وزارتِ دفاع نے کہا کہ شام کے سرکاری فوجیوں کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ دولتِ اسلامیہ کے خلاف ایک کارروائی شروع کرنے والے تھے۔
روس نے اس علاقے میں اپنے کسی شہری کی موجودگی کی تردید کی ہے۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…