مولانا عبدالحمید کو صوبہ کرمان میں داخل نہیں ہونے دیاگیا؛ مذمتی بیانات کی بھرمار

زاہدان (سنی آن لائن) اہل سنت ایران کی ممتاز دینی و سماجی شخصیت مولانا عبدالحمید کو صوبہ کرمان کے شہر ’رمشک‘ میں جانے سے روک دیا گیا جس پر مختلف سنی حلقوں نے سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مذمتی بیانات جاری کیے۔
سنی آن لائن ڈاٹ یوایس کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی بلوچستان کے ملحقہ شہر رمشک تین عشروں پہلے تک بلوچستان کا ہی حصہ تھا جو اب صوبہ کرمان کا حصہ سمجھا جارہاہے۔
گزشتہ دنوں مولانا عبدالحمید دینی دورے پر تھے کہ انہیں رمشک جانے سے روک دیا گیا۔
اس غیرقانونی پابندی پر ایران کے مختلف علاقوں سے بااثر شخصیات نے بیانات اور کالمز شائع کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید کے اسفار پر پابندی ختم کرنے کا مطالبہ پیش کیا ہے۔
رمشک کے باشندے ایران کے بلوچ سنی برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔
واقعے کے چند گھنٹے بعدضلع فنوج میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا: اسلامی جمہوریہ ایران کے تمام محکمے اور اس سے وابستہ افراد کو سمجھ لینا چاہیے کہ وہ اسی نظام مملکت کی نمائندگی کررہے ہیں، لہذا انہیں اپنی نگاہیں بلند رکھنی چاہیے۔ یہ خیرخواہی ہی کی بنیاد پر کہتے ہیں۔
صدر دارالعلوم زاہدان نے کہا: اب یہ وہ وقت نہیں کہ کسی کو کہا جائے تم بلوچستان کا ہو اور یہاں کرمان ہے! یہ تمام علاقے ایران کے ہیں اور ایران بھی پوری قوم کا ہے۔
انہوں نے مزید کہا: اکثر مسائل کو درمیانہ درجے کے حکام پیدا کرتے ہیں اور اعلی حکام کی نگاہیں بلند ہیں۔ بعض اوقات مجھے افسوس ہوتاہے کہ ہم ایرانی اپنے دانشوروں اور سکالرز کی قدر نہیں کرتے حالاں کہ دنیا ان کی قدر جانتی ہے اور مغربی ممالک میں انہیں بڑی پذیرائی ملتی ہے۔
دریں اثنا صوبہ کردستان کے ممتاز دینی و سماجی رہ نما ’کاک حسن امینی‘ نے بیان شائع کرتے ہوئے لکھاہے: مولانا عبدالحمید کے اسفار پر پابندی لگانے سے سنی برادری اور حاکمیت کے درمیان منفی خیالات پیدا ہوجاتے ہیں اور سنی شہری بدظن ہوجاتے ہیں۔
مدرسہ امام شافعی ؒ کے مہتمم نے حالیہ واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہاہے: یہ کسی بھی سنی شہری کے لیے قابل قبول نہیں ہے کہ اس کے اعلی قائدین سے اس طرح کا سلوک روا رکھا جائے۔ لہذا اعلی حکام کو چاہیے معافی مانگ کر اس غلط اقدام کا ازالہ کریں۔
صوبہ بلوچستان کے خاش شہر کے ممتاز عالم دین مولانا محمدگل نے بھی بیان شائع کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید کے اسفار کو محدود رکھنے کے اقدام کو پوری سنی برادری کی توہین یاد دی۔
جامعہ مخزن العلوم خاش کے صدر نے کہا ہے مولانا عبدالحمید امت مسلمہ کے اتحاد کی نشان ہیں اور ملک کے لیے ان کا وجود خیر و برکت اور عزت کا باعث ہے۔
خطے کے سیاسی اور امن سے متعلق مسائل کے حل میں شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید کے کردار کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے انہوں نے حکام کے سرد رویے پر افسوس کا اظہار کیا۔
انہوں نے بھی کہا ہے ایسے اقدامات سے معاشرے میں بدگمانی و مایوسی پھیل جاتی ہے۔ لہذا حکام انتہاپسند ذمہ داروں کو لگام لگادیں۔

زابل کے مولانا عبدالرشید، صوبہ آذربائیجان کے محمدطاہر احمدزادہ، چابہار کے حافظ احمدسعید ملازئی، سماجی کارکنان کریم بخش کردی اور سعید محمدزہی، مدرسہ مولانا عبدالعزیز کے مہتمم مولانا رحمت اللہ، کرمانشاہ کی خاتون صحافی کتایون محمودی، صوبہ گلستان کے مولانا محمدحسین گورگیج سمیت متعدد شخصیات نے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید کے شہری حقوق کی پامالی کی مذمت کی ہے۔

baloch

Recent Posts

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت عوام کے معاشی حالات پر توجہ دیں

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…

2 days ago

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی اجلاس منعقد ہوا

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…

2 days ago

حجاب اور اسرائیل کے معاملے پر اختلافات، ترکیہ آذربائیجان کے درمیان بڑھتی دوریاں

ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔

6 days ago

فرانس میں مہنگائی کے خلاف پرتشدد احتجاج جاری، وزیراعظم کی کرفیو لگانے کی تجویز

فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…

6 days ago

خطے میں کشیدگی؛ فیلڈ مارشل اہم دورے پر تہران پہنچ گئے

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔

6 days ago

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ آذربائیجان اپنا حکم واپس لیں

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…

1 week ago