عوام زاہدان کے خونین جمعہ کے قاتلوں کا شرعی اور قانونی ٹرائل چاہتے ہیں

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان کے خونین جمعہ کی پہلی برسی سے ایک دن قبل نماز جمعہ سے خطاب کرتے ہوئے کہاشہدا کے اہل خانہ اور زخمیوں سمیت سب لوگ اس ‘جنایت’ کے پیچھے درکار ہاتھوں اور قاتلوں کے شرعی و قانونی ٹرائل چاہتے ہیں۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے انتیس ستمبر دوہزار تئیس کو ہزاروں نمازیوں سے گفتگو میں واضح کیا کہ خونین جمعہ کے کیس میں انصاف کی امید کم نظر آرہی ہے اور ججز مختلف جگہوں سے دباؤ میں ہیں۔

سانحہ خونین جمعہ امتیازی سلوک کا نتیجہ اور غیر متوقع تھا
مولانا عبدالحمید نے زاہدان کے خونین جمعہ کے ایک سال مکمل ہونے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: جو کچھ ایک سال قبل یہاں ہوا وہ ہم سب کے لیے اور پوری قوم اور بیدار ضمیر رکھنے والوں کے لیے ناگوار واقعہ تھا۔ دنیا کے کسی بھی ملک میں ایسا نہیں ہوتا کہ ایک سو کے قریب افراد شہید ہوجائیں اور تین سو کے قریب زخمی ہوجائیں اور بعض زخمیوں کی آنکھیں ضائع ہوں یا ٹانگ ہمیشہ کے لیے کٹ جائے۔
انہوں نے مزید کہا: کسی کو توقع نہ تھی کہ ایسا سانحہ رونما ہوجائے گا؛ وہ بھی زاہدان کی عیدگاہ میں جہاں ہمیشہ انتخابات کی بات ہوتی، حاکمیت کی باتیں ہوتیں اور حکام یہاں آکر خطاب کرتے تھے۔ یہاں ہمیشہ اتحاد کی بات ہوتی اور اس مرکز نے قومی اتحاد اور ملکی امن میں کردار ادا کرکے اعتدال کی راہ پر قدم رکھا ہے اور انتہاپسندوں کی مخالفت کی ہے۔
ؒخطیب اہل سنت نے کہا: گزشتہ ایک سال میں عوام کا مطالبہ یہی رہا ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے اس جرمِ عظیم کا ارتکاب کیا ہے، اسلامی اور قانونی طریقے سے ان کا ٹرائل ہوجائے۔ عوام کا کوئی ناجائز مطالبہ نہیں ہے؛ وہ کہتے ہیں یہاں اسلامی جمہوریہ کا نظام ہے اور جو لوگ اس عظیم جنایت کے پیچھے ہیں، اسلام کے احکام اور قوانین کے مطابق انہیں سزا دلوائیں۔
انہوں نے کہا: میں عوام کا شکریہ ادا کرتاہوں جنہوں نے صبر سے کام لیا اور اس پر رضامند ہوئے کہ قانونی طریقے سے اس کیس کی پیروی کریں۔ بہت سارے شہدا اور زخمیوں کے اہل خانہ ہمارے اصرار پر اور حکام کے وعدوں پر بھروسہ کرکے عدالت سے رجوع کرچکے ہیں، لیکن بعض کا کہنا ہے کہ قانونی طریقے سے وہ انصاف حاصل نہیں کرسکتے ہیں؛ اسی لیے عدالت سے رجوع بھی نہیں کرتے ہیں۔
صدر جامعہ دارالعلوم زاہدان نے کہا: جو ججز اس کیس کی پیروی کے لیے متعین ہیں اور ہم ذاتی طور پر انہیں جانتے ہیں، ان کے بارے میں کوئی بات نہیں، لیکن میں پہلے بھی کہہ چکاہوں کہ افسو س کا مقام ہے کہ ہمارے ملک میں ججز آزاد اور مستقل نہیں ہیں۔ جو وکلا اس کیس کے لیے مقرر ہوئے ہیں اور شہدا کے لواحقین کے ذریعے جو عدالت جاچکے ہیں، ان سے ہمیں معلوم ہوا ہے کہ خونین جمعہ کے ججز پر مختلف جگہوں سے دباؤ ڈالاجارہاہے۔ لہذا ہم زیادہ پرامید نہیں ہیں کہ یہ ججز انصاف فراہم کرسکیں۔
عوام دیہ پر راضی نہیں ہوتے ہیں
انہوں نے قاتلوں کے قصاص پر زور دیتے ہوئے کہا: ہم سب اور عوام کا مطالبہ ہے کہ جنہوں نے زاہدان میں درجنوں افراد کو چند گھنٹوں میں شہید کیا، انہیں اسلامی قانون کے مطابق سزا دلوائیں۔ ہم اسی پر رضامند ہوں گے اور یہ کوئی زیادہ طلبی نہیں ہے۔ اسلامی قوانین کے رو سے اس جرم کے مرتکبین کی سزا قصاص ہے؛ اگر کوئی دلیل و قانون کے مطابق ہمیں قناعت دے کہ انہیں قصاص نہیں کیاجاسکتا، ہم مان لیں گے۔
مولانا عبدالحمید نے مزید کہا: کچھ حکام نے کہا ہے ہم دیہ ادا کرکے مصالحہ کریں گے۔ یہ لوگ دیہ پر رضامند نہیں ہوتے ہیں۔ آج زخمی ہونے والے اور شہدا کے لواحقین یہاں عیدگاہ میں نماز کے لیے موجود ہیں اور وہ کہتے ہیں ہم غریب ہونے کے باوجود، دیہ لے کر تسلی حاصل نہیں کرسکتے ہیں۔
انہوں نے سب ایرانی عوام بشمول ان ایرانیوں کے جو ملک سے باہر رہتے ہیں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے زاہدان کے خونین جمعہ کے بعد متاثرین سے یکجہتی اور ہمدرد ی کا اظہار کیا۔مولانا نے کہا: ایرانی عوام نے ہمارے مسائل سے آگاہی حاصل کی اور انہیں پتہ چلا اس خطے کے لوگ کس قدر مظلوم ہیں اور شاید ان کی مظلومیت ہر کسی کو معلوم نہ ہوجائے۔ زاہدان کا خونین جمعہ امتیازی پالیسیوں اور سلوک کا نتیجہ ہے جس کے اثرات زندگی کے مختلف شعبوں میں ظاہر ہوتے ہیں۔

عوام دوسروں کی خاطر احتجاج نہیں کرتے ہیں
فقر و فاقہ کا سایہ ملک پر ہے
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے کہا: آج ایرانی عوام بری طرح مسائل کے دلدل میں پھنس چکے ہیں۔ان لوگوں نے چوالیس سال مسائل کو برداشت کیا، لیکن اب ان کا صدائے احتجاج بلند ہے۔ یہ لوگ کسی بھی ملک یا حکومت کی خاطر احتجاج کے لیے سڑکوں پر نہیں نکلتے ہیں؛ اگر کوئی اجنبی طاقتوں کی خاطر احتجاج کرتاہے، تو ان کی تعداد بہت کم ہے۔ مشکلات کی وجہ سے ایرانی قوم سخت دباؤ میں ہے۔
انہوں نے مزید کہا: معاشی اور اقتصادی مشکلات سے پوری قوم کے افراد متاثر ہیں؛ ان کی آمدنی کم ہے اور وہ اپنے بیوی بچوں کے سامنے شرمندہ ہیں۔ آج کل سکولوں اور کالجوں کا نیا تعلیمی سال شروع ہونے کی وجہ سے لوگ اپنے بچوں کے لیے اسٹیشنری اور یونیفارم مہیا کرنے سے عاجز ہیں۔بہت سارے لوگ کافی کھانا خریدنے سے عاجز ہیں۔ تاجر برادری کے لوگ اپنے قرضے ادا نہیں کرسکتے ہیں۔
ممتاز عالم دین نے کرپشن اور امتیازی پالیسیوں کو ایران کے دو اہم مسئلے یاد کرتے ہوئے کہا: کرپشن اور امتیازی پالیسیوں سے لوگ شکایتیں کرتے چلے آرہے ہیں۔ مختلف سرکاری محکموں میں کرپشن عام سی بات بن چکاہے۔ بہت سارے سرکاری ملازمین اور افسران عوام کے مفادات کو چھوڑ کر اپنے ذاتی مفادات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ امتیازی سلوک اور نابرابری و عدم مساوات پورے ملک میں پائے جاتے ہیں اور جن علاقوں میں دیگر لسانی و مسلکی برادری آباد ہیں، وہاں امتیازی رویے بہت زیادہ سخت ہے۔
انہوں نے کہا: ہمارے خطے کے لوگ چوالیس سالوں سے عدم مساوات اور امتیازی پالیسیوں سے نالاں ہیں۔ صوبائی دارالحکومت میں اہل سنت اور بلوچ برادری سرکاری اداروں میں بہت تھوڑے ہیں۔ تقرریوں میں انصاف نہیں ہوتا۔ ہم نے بارہا ان مسائل پر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا ہے، ارکان پارلیمنٹ نے بات کی ہے اور صدور مملکت اور حکومتوں کو بھی بات پہنچائی ہے، لیکن پھر بھی کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیاہے۔
مولانا عبدالحمید نے کہا: امتیازی سلوک شیعہ برادری میں بھی پائی جاتی ہے اور ان کے قابل افراد کو نظرانداز کرکے ایک مخصوص سوچ کے افراد ہی کو ترجیح دی جاتی ہے۔ اسی لیے لوگ بڑی تعداد میں ملک چھوڑ کر دوسرے ملکوں میں آباد ہورہے ہیں اور بہت سارے لوگ گھروں میں محصور ہوکر بوڑھے ہوچکے ہیں اور وہ اب اپنے ملک کی خدمت نہیں کرسکتے ہیں۔

قانونی آزادی فراہم کریں
خطیب اہل سنت زاہدان نے اظہارِ رائے کی آزادی پر گفتگو کرتے ہوئے کہا: جو آزادی دنیا کی دیگر قوموں کے لیے پوری دنیا میں پائی جاتی ہے وہی قانونی اور مشروع آزادی عوام کو فراہم کریں؛ اظہارِ رائے کی آزادی ہونی چاہیے اور سیاسی جماعتوں کو آزادی حاصل ہونی چاہیے۔ لوگوں کو بات کرنے اور لکھنے اور تنقید کرنے کی آزادی فراہم ہونی چاہیے۔اب عوام کی آزادی مختل ہوچکی ہے۔ اگر تنقید نہ ہو، سماج ترقی نہیں کرسکتا اور مسائل پیدا ہوجائیں گے۔ ایک مرتبہ کوئی معاشی پلان کا اعلان ہوا؛ کسی نے تنقید کی۔ حکام نے فورا اسے گرفتار کیا۔ بعد میں معلوم ہوا وہ پلان ناکام تھا اور اس میں غلطیاں تھیں۔
انہوں نے کہا: آج سب ایرانی پریشان ہیں اور جب تک مسائل حل نہیں ہوتے، شکایتیں ہوتی رہیں گی اور ماہرین ملک چھوڑ کر چلے جائیں گے۔ جب تک درد ہے، آہ و پکار بھی ہے۔ ماضی کی پالیسیاں شکست سے دوچار ہوچکی ہیں اور یہ ایک قومی مطالبہ ہے کہ اپنی پالیسیاں تبدیل کرائیں۔ جب کوئی پالیسی ناکام ہوتی ہے، اسے ٹھیک کرکے تبدیل کرتے ہیں۔ ہمارے ملک کی داخلہ و خارجہ پالیسیوں کو اصلاح کی ضرورت ہے۔

اگر حکام قومی مسائل حل کرائیں، عوام سے خون معاف کرنے کی درخواست کے لیے تیار ہیں
زاہدان کے خونین جمعہ میں ایک سو کے قریب افراد کی شہادت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے کہا: اگر تم پورے ملک کے مسائل حل کروگے اور پوری قوم کے مسائل حل ہوجائیں جن میں ہمارے لوگ بھی شامل ہیں، ہم اس بات پر تیار ہیں کہ شہدا کے لواحقین اور زخمیوں سے درخواست کریں کہ وہ خون معاف کریں۔
انہوں نے مزید کہا: اس خطے کے لوگ ہوسکتاہے زیادہ تعلیم یافتہ نہ ہوں، لیکن الحمدللہ وہ سمجھدار ضرور ہیں اور حالات کا بخوبی تجزیہ کرتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ اگر تم پوری قوم کے مسائل حل کروگے، اس علاقے کے باشندوں میں اتنی جرات و جوانمردی ہے کہ وہ اپنا حق معاف کریں۔عوام کے مسائل تم حکام کے مسائل بھی ہیں؛ انہیں بات چیت سے حل کرائیں۔ سیاستدان خواتین و حضرات کو جو جیلوں میں قید ہیں یا گھروں میں نظربند، رہا کرکے ان کی باتیں سنیں۔
انہوں نے کہا مسائل حل ہونے کی صورت میں قومی مصالحت اور اتحاد کا امکان ہے۔ مولانا عبدالحمید نے کہا: ایک ہی گروہ کا اتحاد، اتحاد نہیں ہے؛ کچھ لوگ اکٹھے بیٹھ جائیں، اس سے اتحاد پیدا نہیں ہوتا۔ تم کس سے اتحاد کرنا چاہتے ہو؟ ایرانی قوم مہذب اور قابل ہے؛ اگر قوم احساس کرے تم ان کی باتوں پر توجہ دیتے ہو، اس سے بڑی قومی مصالحت حاصل ہوسکتی ہے۔
خطیب زاہدان نے اپنے خطاب کے آخر میں کہا: اگر پوری قوم کے مسائل حل نہیں ہوتے، ہم صبر سے کام لیں گے اور جب تک اسلامی شریعت کے مطابق فیصلہ نہیں ہوتا، جو حق قرآن و سنت ہمیں دیتے ہیں، اسی پر رضامند ہوجائیں گے۔ہم تشدد، لڑائی اور فتنہ کے خلاف ہیں اور پرامن اور دنیا میں مقبول قوانین کے مطابق اپنے حقوق مطالبہ کرتے رہیں گے۔

baloch

Recent Posts

مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام

مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام

1 day ago

ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا

ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا

1 day ago

کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے والوں کے لیے نجات کا آخری راستہ ہے

کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…

3 days ago

زاہدان کے علما و قرآنی کارکنان کا مشاورتی اجلاس منعقد

زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…

3 days ago

مولانا مفتی محمدقاسم بنی‌کمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام

مولانا مفتی محمدقاسم بنی‌کمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام

1 week ago