قابض صہیونی فوج نے دریائے اردن کے مقبوضہ مغربی کنارے کے وسطی شہر رام اللہ میں ایک سترہ سالہ فلسطینی لڑنے گولیاں مار کر شہید کر دیا۔
کل بدھ کو اسرائیلی فوجیوں نے رام اللہ کے نواحی علاقے دیر نظام میں ایک سترہ سالہ فلسطینی لڑکے مصعب فراس التمیمی کو گولیاں کار کر شدید زخمی کردیا، زخمی بچے کو رام اللہ میں ایک مقامی اسپتال منتقل کیا جہاں کچھ ہی دیر بعد وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔
فلسطینی وزارت صحت کی طرف سے کہا گیا ہے کہ التمیمی کو شدید زخمی حالت میں اسپتال لایا گیا۔ التمیمی کو قریب سے اس کی گردن میں گولیاں ماری گئیں جس کے نتیجے میں اس کی موت واقع ہوگئی۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ فلسطینی لڑکے کو اس وقت گولیاں ماری گئیں جب فلسطینی نوجوانوں اور اسرائیلی فوج کے درمیان جھڑپیں جاری تھیں۔
خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دیئے جانے کے بعد فلسطین میں تشدد کی ایک نئی لہر سامنے آئی ہے۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان