امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں سیکڑوں مسلمانوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے پر احتجاجا وہائٹ ہاؤس کے سامنے نمازِ جمعہ ادا کی۔
یہ مجمع امریکا میں مسلمان تنظیموں کی جانب سے دعوت پر وہائٹ ہاؤس کے سامنے واقع “لیوائٹ اسکوائر” کے چھوٹے سے باغ میں جمع ہوا تھا۔
مظاہرین میں بہت سے لوگوں نے اپنی گردنوں پر فلسطینی پرچم باندھا ہوا تھا جب کہ بعض کے ہاتھوں میں بینر تھے جن پر مقبوضہ مشرقی بیت المقدس میں اسرائیلی بستیوں کی آباد کاری کے خلاف مذمتی عبارتیں تحریر تھیں۔
امریکی اسلامی کونسل کے ڈائریکٹر جنرل نہاد عوض کے مطابق “ٹرمپ بیت المقدس یا فلسطین کی اراضی کے ایک ذرّے کا بھی مالک نہیں ، وہ ٹرمپ ٹاور کے مالک ہیں اور اپنی اس ملکیت کو اسرائیلیوں کو دے سکتے ہیں”۔
جمعے کے روز متعدد عرب اور اسلامی ممالک میں ہزاروں افراد نے احتجاجی مظاہروں میں بیت المقدس کے حوالے سے ٹرمپ کے فیصلے پر مذمت اور فلسطینیوں کے ساتھ اظہارِ یک جہتی کیا۔
ٹرمپ نے بدھ کی شام امریکی سفارت خانے کو بیت المقدس منتقل کرنے کے فیصلے پر دستخط کیے تھے۔ اس فیصلے نے عرب اور اسلامی ممالک میں غم و غصّے کی لہر پیدا کر دی جب کہ بین الاقوامی سطح پر بھی اس فیصلے کو مسترد کر دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ بیت المقدس کی پوزیشن فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان تنازع کے تصفیے کی راہ میں ایک اہم ترین رکاوٹ ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار
غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں میں بے گھر افراد کے خیموں کو نشانہ بنایا گیا…
قومی مفادات اور ایرانی عوام کی زندگی کو کسی دوسرے ملک یا قوم کے مفادات…