مقامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق منگل کی صبح مغربی کنارے میں ایک فلسطینی نے فائرنگ کر کے 3 اسرائیلی سرحدی محافظین کو موت کی نیند سُلا دیا جب کہ چوتھا زخمی ہو گیا۔ بعد ازاں اسرائیلی فوجیوں کی جوابی فائرنگ سے حملہ آور فلسطینی جاں بحق ہو گیا۔ یہ واقعہ مغربی کنارے میں واقع یہودی بستی ہار ادار میں پیش آیا۔
عبرانی زبان کے چینل 10 کی رپورٹ کے مطابق 37 سالہ فلسطینی حملہ آور کا تعلق بیت المقدس شہر کے شمال مغرب میں واقع گاؤں بیت سوریک سے ہے۔ وہ شادی شدہ ہے اور اس کے چار بیٹے ہیں۔ مذکورہ فلسطینی کے پاس اسرائیل کے اندر کام کرنے کا اجازت نامہ تھا۔
اسرائیلی پولیس کے اعلان کے مطابق فلسطینی حملہ آور دیگر فلسطینی ورکروں کے ساتھ ہار ادار بستی کے عقبی داخلی راستے پر پہنچا اور اور اس نے وہاں موجود سکیورٹی فورسز پر فائرنگ کر ڈالی۔
پولیس نے مزید بتایا کہ حملے میں تین اسرائیلی مارے گئے اور چوتھے کو شدید زخمی حالت میں ہسپتال پہنچا دیا گیا۔ پولیس کے مطابق حملہ آور کو “قابو” کر لیا گیا۔ بعد ازاں پولیس نے فلسطینی حملہ آور کے زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسنے کی تصدیق کر دی۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان