اس سال ستمبر سے ترکی کے سکولوں میں نیا نصاب پڑھایا جائے گا جس میں کی گئی مختلف تبدیلیوں میں سے سب سے اہم تبدیلی سیکنڈری ایجوکیشن کے نصاب میں کی گئی ہے جس میں سے نظریہ ارتقا کا باب نکال دیا گیا ہے۔
ان متنازع تبدیلیوں میں جدید ترکی کے بانی مصطفی کمال اتاترک کی زندگی کے بارے میں پڑھائے جانے کے اوقات میں کمی کی گئی ہے جبکہ جہاد کے بارے میں ابتدائی تعلیم کو نصاب شامل کیا گیا ہے اور مذہبی تعلیم دینے کے لیے کلاسوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔
ترکی کی سیکولر حزب مخالف نے ان تبدیلیوں کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان اور ان کی حکمران جماعت ان مروجہ تبدیلیوں سے ترکی کو مذہب اور اسلام پسندی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ یاد رہے کہ ترکی کے صدر متعدد بار یہ کہہ چکے ہیں کہ ان کی خواہش ہے کہ ملک کی آنے والی نسلیں نیک اور پرہیزگار ہوں۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے وزیر تعلیم عصمت یلماز نے کہا کہ ‘ہم نے غیر ضروری، تکرار سے بھرپور اور فرسودہ مضامین کو نصاب سے نکال دیا ہے اور یہ مناسب نہیں کہ ہم ان معمولی تبدیلوں پر بات کریں جبکہ ہم نے ایک لاکھ سے زیادہ تبدیلیاں کی ہیں۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…