سحری کھانے میں برکت ہے

سوال… ایک شخص روزے رکھتا ہے اور اس نے یہ طریقہ اختیار کیا ہے کہ وہ سحری نہیں کرتا اور شام کو صرف پانی سے افطار کرتا ہے، کیا اس طریقہ سے روزہ رکھنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب… مذکورہ طریقہ کے مطابق روزے رکھنا اگرچہ جائز ہے، لیکن مناسب ہے کہ سحری بھی کرے، احادیث مبارکہ میں سحری کے بارے میں بہت فضیلت آئی ہے، یہاں تک کہ آپ ا نے ایک موقع پر ارشاد فرمایا، ”ہمارے او راہلِ کتاب ( یہود ونصاریٰ) کے روزوں کے درمیان سحری کرنے اور نہ کرنے کا فرق ہے کہ وہ سحری نہیں کرتے اور ہم کرتے ہیں۔“ اسی طرح آپ ا نے فرمایا: ” سحری کھایا کرو اس لیے کہ سحری کھانے میں برکت ہے “۔

baloch

Recent Posts

اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت سب سے بڑا جہاد ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…

1 week ago

اقبال اور فلسطین: ہے خاک فلسطین پہ یہودی کا اگر حق

دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…

2 weeks ago

معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار

معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار

2 weeks ago

غسل کعبہ کی روح پرور تقریب آج ہو گی

غسل کعبہ کی روح پرور تقریب آج ہو گی

2 weeks ago

اسرائیل کا غزہ میں بےگھر افراد پر حملہ، ماں اور بچوں سمیت 6 افراد شہید

غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں میں بے گھر افراد کے خیموں کو نشانہ بنایا گیا…

2 weeks ago

“کتاب و حکمت کی تعلیم” اور “معاشرے کی تزکیہ و اصلاح” رسولِ اکرم ﷺ کی بعثت کے بنیادی مقاصد میں شامل ہیں

قومی مفادات اور ایرانی عوام کی زندگی کو کسی دوسرے ملک یا قوم کے مفادات…

2 weeks ago