سوال… ایک شخص روزے رکھتا ہے اور اس نے یہ طریقہ اختیار کیا ہے کہ وہ سحری نہیں کرتا اور شام کو صرف پانی سے افطار کرتا ہے، کیا اس طریقہ سے روزہ رکھنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب… مذکورہ طریقہ کے مطابق روزے رکھنا اگرچہ جائز ہے، لیکن مناسب ہے کہ سحری بھی کرے، احادیث مبارکہ میں سحری کے بارے میں بہت فضیلت آئی ہے، یہاں تک کہ آپ ا نے ایک موقع پر ارشاد فرمایا، ”ہمارے او راہلِ کتاب ( یہود ونصاریٰ) کے روزوں کے درمیان سحری کرنے اور نہ کرنے کا فرق ہے کہ وہ سحری نہیں کرتے اور ہم کرتے ہیں۔“ اسی طرح آپ ا نے فرمایا: ” سحری کھایا کرو اس لیے کہ سحری کھانے میں برکت ہے “۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار
غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں میں بے گھر افراد کے خیموں کو نشانہ بنایا گیا…
قومی مفادات اور ایرانی عوام کی زندگی کو کسی دوسرے ملک یا قوم کے مفادات…