سوال… رات کو طبیعت بہت خراب تھی اس لیے سحری کے وقت روزہ کی نیت نہیں کی، لیکن یہ ارادہ تھا کہ اگر طبیعت صبح تک ٹھیک ہو گئی تو زوال سے قبل نیت کر لوں گا، لیکن نیند کی وجہ سے زوال سے قبل روزہ کی نیت نہ کر سکا بلکہ ایک یا پونے ایک بجے آنکھ کھلی تو نیت کی، کیا میرا یہ روزہ ہو گا یا زوال سے قبل نیت نہ کرنے کی وجہ سے شمار نہ ہو گا؟
جواب… روزے کے صحیح ہونے کے لیے ضروری ہے کہ غروبِ آفتاب کے بعد سے لے کر ضحوہٴ کبرٰی سے ذراپہلے تک روزے کی نیت کر لی جائے، ضحوہٴ کبریٰ سے مراد نصف النہار شرعی ہے، صبح صادق سے غروبِ آفتاب تک شرعی دن ہے اور اس کا نصف ضحوہٴ کبرٰی اور نصف النہار شرعی ہے، پس روزہ کی نیت کا آخری وقت نصف النہار شرعی سے ذرا پہلے تک ہے ، اگر نصف النہار شرعی ہونے پر یا اس کے بعد نیت کی تو روزہ صحیح نہیں ہو گا۔
لہٰذا اگر آپ کا غالب گمان یہ ہے کہ آپ نے نصف النہار شرعی سے ذرا پہلے تک نیت کر لی تھی تو اس دن آپ کا روزہ شمار ہو گا، ورنہ نہیں۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار
غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں میں بے گھر افراد کے خیموں کو نشانہ بنایا گیا…
قومی مفادات اور ایرانی عوام کی زندگی کو کسی دوسرے ملک یا قوم کے مفادات…