سوال… رات کو طبیعت بہت خراب تھی اس لیے سحری کے وقت روزہ کی نیت نہیں کی، لیکن یہ ارادہ تھا کہ اگر طبیعت صبح تک ٹھیک ہو گئی تو زوال سے قبل نیت کر لوں گا، لیکن نیند کی وجہ سے زوال سے قبل روزہ کی نیت نہ کر سکا بلکہ ایک یا پونے ایک بجے آنکھ کھلی تو نیت کی، کیا میرا یہ روزہ ہو گا یا زوال سے قبل نیت نہ کرنے کی وجہ سے شمار نہ ہو گا؟
جواب… روزے کے صحیح ہونے کے لیے ضروری ہے کہ غروبِ آفتاب کے بعد سے لے کر ضحوہٴ کبرٰی سے ذراپہلے تک روزے کی نیت کر لی جائے، ضحوہٴ کبریٰ سے مراد نصف النہار شرعی ہے، صبح صادق سے غروبِ آفتاب تک شرعی دن ہے اور اس کا نصف ضحوہٴ کبرٰی اور نصف النہار شرعی ہے، پس روزہ کی نیت کا آخری وقت نصف النہار شرعی سے ذرا پہلے تک ہے ، اگر نصف النہار شرعی ہونے پر یا اس کے بعد نیت کی تو روزہ صحیح نہیں ہو گا۔
لہٰذا اگر آپ کا غالب گمان یہ ہے کہ آپ نے نصف النہار شرعی سے ذرا پہلے تک نیت کر لی تھی تو اس دن آپ کا روزہ شمار ہو گا، ورنہ نہیں۔
رسولِ اکرم ﷺ کا میلاد «نور و رحمت کا میلاد» اور «انسانیت پر اللہ تعالیٰ…
صوبے اور ملک میں انتہاپسندی سے کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوا اور نہ ہی ہوگا؛…
سنی بلوچ علما کے خلاف بڑھتے ہوئے سکیورٹی دباؤ اور تعاقب کے درمیان گزشتہ دنوں…
سیستان و بلوچستان کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے اشتعال انگیز بیانات پر علما، قبائل اور…
زم زم کا پانی روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان اور لا زوال…
غزہ میں درجنوں فلسطینی صحافیوں نے پیر کے روز الجزیرہ چینل سے وابستہ اپنے 6…