جانب من الدمار الذي خلفته ضربات جوية على منطقة في حلب يوم 23 ابريل نيسان 2016. تصوير: عبد الرحمن إسماعيل - رويترز.
امریکی وائیٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ارنسٹ نے کہا ہے کہ ان کی حکومت شام میں محفوظ زون کے قیام کے بجائے جنگ بندی کو وسعت دینے کی حمایت کرے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ محفوظ زون کا قیام وسیع تر جنگ بندی کا متبادل ہرگز نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے اسد رجیم پر زور دیا کہ وہ جنگ بندی کے اصولوں کا احترام کرتے ہوئے شہریوں پر بمباری کا سلسلہ فوری اور مکمل طور پر بند کردیں۔
العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وائیٹ ہاؤس کے ترجمان کا کہنا تھا کہ صدر باراک اوباما شام میں محفوظ زون کے قیام کی تجویز سے متفق نہیں ہیں۔ انہوں نے بہت پہلے ہی اس طرح کی کسی بھی تجویز کو مسترد کردیا تھا۔ ہم چاہتے ہیں کہ شام میں جنگ بندی کے عملی نفاذ کے ساتھ ساتھ ہماری مسلح افواج کی توجہ دہشت گرد گروپ داعش پر حملوں پر مرکوز ہوجائے۔
جوش ارنسٹ کا کہنا تھا کہ اسد رجیم کے پاس ملک میں جنگ بندی کو قبول کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں باقی نہیں رہا ہے۔ روس بھی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ شام میں جنگ بندی پر عمل درآمد کے لیے بشار الاسد اوران کی حکومت پر دباؤ ڈالے۔
ادھر امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے جنیوا میں ہونے والے امن مذاکرات میں کہا ہے کہ شام میں جنگ بندی کے قیام کی ذمہ داری ایران اور روس پربھی عاید ہوتی ہے۔ اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی دی میستورانے بھی امریکا اور روس پرشام کے تمام علاقوں میں جنگ بندی کے قیام پر زور دیا ہے۔ دی میستورا آج ماسکو پہنچیں گے جہاں وہ شام بالخصوص حلب میں جنگ بندی کو مزید وسعت دینے پرروسی حکومت سے تبادلہ خیال کریں گے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…