اسلامی تاریخ کے صدر اول میں پتھر، پتوں، درختوں کی چھال اور ہڈیوں پر قرآن پاک کی آیات لکھی جاتی تھیں مگرآج چودہ سو سال بعد ماہرین نے جدید سائنسی طریقہ کار کی مدد سے بھی پتھر پر قرآن پاک کا نسخہ تیار کیا ہے۔ اس نسخے کی کئی خصوصیات ہیں جن میں اہم ترین اس کا آگ میں جلنے نیز پانی اور دیگر مائع اشیاء سے محفوظ رہنا ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق پتھر سے تیارکردہ قرآن پاک کے اس مننفرد نسخے کو دبئی میں منعقدہ ’’ہائپر ورلڈ‘‘ نمائش میں پیش کیا گیا جسے زائرین نے بہت پسند کیا ہے۔
سنگ سے تیار کردہ صحیفہ قرآن کے اوراق کو کاغذ کے اوراق کی طرح آسانی کے ساتھ پلٹا جا سکتا ہے۔ پتھر سے طباعت واشاعت کےمیدان میں یہ انقلاب ہے کیونکہ اس کی تیاری میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی نصف مقدار اور کیلشیم کاربونیٹ کی 80 فی صد مقدار شامل کی گئی ہے۔
اس ٹکنالوجی کی مدد سے اب تک مختلف دینی کتب، تحائف، بیگ اور دیگر کاغذی مصنوعات تیار کی جاتی ہیں جو واٹر پروف ہونے کے ساتھ ساتھ ہر قسم کے مائع مثلا چکنائی اور مضر بیکٹیریا سے محفوظ رہتا ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار
غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں میں بے گھر افراد کے خیموں کو نشانہ بنایا گیا…
قومی مفادات اور ایرانی عوام کی زندگی کو کسی دوسرے ملک یا قوم کے مفادات…