پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے وزیر اعلٰی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ مستعفی ہوگئے ہیں۔
ایک سرکاری اعلامیہ کے مطابق انھوں نے بدھ کو اپنا استعفیٰ گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی کو پیش کیا جسے فوری طور پر منظور کر لیا گیا۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر مالک بلوچ سنہ 2013 کے عام انتخابات کے بعد مری میں طے پانے والے ایک معاہدے کے مطابق ڈھائی سال کے لیے نیشنل پارٹی سے وزیرِاعلیٰ بنے تھے جس کے بعد آئندہ ڈھائی سال کے لیے مسلم لیگ نواز بلوچستان کے نواب ثنا اللہ زہری کو وزیر اعلیٰ بننا تھا۔
یہ معاہدہ مری میں تین جماعتوں مسلم لیگ (نواز)، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی کے درمیان ہوا طے تھا اور اسی معاہدے کے تحت گورنر کا عہدہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کو دیا گیا تھا۔
ڈاکٹر مالک بلوچ کی بطور وزیر اعلیٰ مدت نو دسمبرکو ختم ہوئی جس کے بعد وزیر اعظم میاں نواز شریف نے نواب ثنا اللہ زہری کی بطور وزیر اعلیٰ نامزدگی کا اعلان کیا تھا۔
ڈاکٹر مالک بلوچ کے استعفیٰ کے بعد بلوچستان کی کابینہ بھی تحلیل ہوگئی ہے۔
گورنر بلوچستان نے نئے وزیرِ اعلیٰ کے انتخاب کے لیے بلوچستان اسمبلی کا اجلاس جمعرات کی صبح طلب کیا ہے۔
بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں نواب ثنا اللہ زہری کا بلوچستان کے نئے وزیرِ اعلیٰ کی حیثیت سے انتخاب ہوگا اور اس سے پہلے سپیکر کا انتخاب ہوگا۔
جان محمد جمالی کے استعفیٰ کے بعد گذشتہ سات ماہ سے زائد عرصے سے بلوچستان اسمبلی کے سپیکر کا انتخاب نہیں ہوا۔
بی بی سی اردو
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…