مفتی نظام الدین شامزئی اور مفتی مجیدالدین دین پوری سمیت متعدد علمائے کرام اور پولیس افسران کے قتل میں ملوث ٹارگٹ کلر کو گرفتار کر لیا گیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق ڈی آئی جی ویسٹ فیروز شیخ کا کہنا ہے کہ مفتی نظام الدین شامزئی سمیت متعدد علمائے کرام اور پولیس افسران کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ٹارگٹ کلر فیڈرل بی ایریا سے گرفتار کیا گیا ہے۔ ٹارگٹ کلر وسیع حیدر 2002 میں حیدر آباد سے کراچی منتقل ہوا اور پھر ایک سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کی۔
ڈی آئی جی ویسٹ نے بتایا کہ ملزم نے دوران تفتیش انکشاف کیا ہے کہ اس نے 2000 میں ایک گاڑی پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں مفتی مجیدالدین دین پوری سمیت 3 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ ملزم نے دوران تفتیش پولیس انسپکٹر ناصرالحسن کو بھی قتل کرنے کا بھی انکشاف کیا ہے۔
فیروز شیخ نے بتایا کہ ملزم نے دوران تفتیش یہ اعتراف بھی کیا کہ اس نے 2013 میں مخالف تنظیم کے 3 کارکنوں کی ٹارگٹ کلنگ بھی کی۔
واضح رہے کہ مفتی نظام الدین شامزئی کو 30 مئی 2004 کو کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
فیروز شیخ نے بتایا کہ مفتی نظام الدین شامزئی کے قاتلوں کی گرفتاری پر حکومت کی جانب سے ملزمان کی گرفتاری یا نشاندہی پر 50 لاکھ روپے انعام مقرر تھا۔
ایکسپریس نیوز
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان