افغان پارلیمنٹ پر اجلاس کے دوران طالبان کے حملے کے بعد دوطرفہ فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے جس میں ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق افغان دارالحکومت کابل میں پارلیمنٹ کی عمارت کے قریب ایک خود کش حملہ آور نے خود کو دھماکا خیز مواد کی مدد سے اڑا لیا جس کے بعد اس کے دیگر ساتھی فائرنگ کرتے ہوئے پارلیمنٹ کی عمارت کے اندر گھس گئے۔ حملے کے وقت افغان پارلیمنٹ کا اجلاس جاری تھا۔ پارلیمنٹ پر حملے کے بعد عمارت کے ایک حصے میں آگ لگ گئی اور ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ کو خالی کرا لیا گیا ہے جب کہ دہشت گردوں کے ساتھ مقابلہ جاری ہے۔ دوسری جانب طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے ساتھیوں نے پارلیمنٹ پر اس وقت حملہ کیا جب وزیردفاع کو ایوان میں متعارف کرایا جا رہا تھا۔
ایکسپریس نیوز
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان