خیال رہے کہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد اسرائیل نے مسلمان مرد عبادت گزاروں پر یروشلم حرم الشریف جانے پر پابندی عائد کر دی تھی۔
اسرائیلی ترجمان مکی روزین فیلڈ نے کہا کہ جمعے کو نماز سے قبل شہر میں پولیس کے اضافی یونٹ تعینات کیے گئے۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ اس بات کا فیصلہ امریکہ، اسرائیل اور اردن کے درمیان عمان میں ہونے والے بات چیت کے بعد معاہدے میں کیا گیا۔
اردن اس معاہدے کا مصالحت کار ہے جس میں قبۃ الصخرا اور مسجدِ اقصیٰ شامل ہیں۔
حرم الشریف یا ٹیمپل ماؤنٹ اسلام اور یہودیت کے مقدس ترین مقامات میں سے ایک ہے اور یہاں مسجدِ اقصیٰ واقع ہے جو اسلام کی تیسری مقدس ترین جگہ ہے۔
اسرائیلی یہودی حرم الشریف میں یہودیوں کو احاطے میں عبادت کرنے پر عائد پابندی کو چیلنج کرنے کی مہم میں سرگرم تھے۔
گذشتہ ماہ یروشلم میں دائیں بازو کے نمایاں یہودی کارکن ربی یہودا گلک پر فائرنگ کے واقعے کے بعد سے کشیدگی میں اضافہ ہو گیا تھا۔
گذشتہ ہفتے فلسطینی مظاہرین اور پولیس کے درمیان تصادم کے واقعے کے بعد حرم الشریف کو مختصر وقت کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔
بی بی سی اردو
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان