چین کے سرکاری خبررساں ادارے کے مطابق ان بائیس مشتبہ افراد کو سنکیانگ میں مختلف الزامات کے تحت جیل بھیجا گیا ہے جن کو گزشتہ روز کھلی کچری کے دوران پانچ سے سولہ سال کی قید کی سزا سنائی گئی۔ ان افراد پر الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے عہدوں پر رہتے ہوئے قوانین توڑنے اور مذہبی سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں۔ ان تمام اماموں کوعہدوں سے برطرف کرتے ہوئے سزا سنائی گئی ہے۔ دیگر افرادپرنسلی نفرت پھیلانے، قوانین کو توڑنے کے لیے تو ہم پرستی پھیلانے اور انتشار پھیلانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ چین نے سنگینانگ میں انتہاپسند گروپس کے خلاف کریک ڈاون شروع کر رکھا ہے۔ سنکیانگ میں عوامی عدالت عام ہوتی جا رہی ہے جو کھلے اسٹیڈیم میں لگائی جاتی ہیں جس پر انسانی حقوق کے اداروں کی جانب شدید تنقید بھی سامنے آ رہی ہے۔
اردو ٹائمز
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید