چین کے سرکاری خبررساں ادارے کے مطابق ان بائیس مشتبہ افراد کو سنکیانگ میں مختلف الزامات کے تحت جیل بھیجا گیا ہے جن کو گزشتہ روز کھلی کچری کے دوران پانچ سے سولہ سال کی قید کی سزا سنائی گئی۔ ان افراد پر الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے عہدوں پر رہتے ہوئے قوانین توڑنے اور مذہبی سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں۔ ان تمام اماموں کوعہدوں سے برطرف کرتے ہوئے سزا سنائی گئی ہے۔ دیگر افرادپرنسلی نفرت پھیلانے، قوانین کو توڑنے کے لیے تو ہم پرستی پھیلانے اور انتشار پھیلانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ چین نے سنگینانگ میں انتہاپسند گروپس کے خلاف کریک ڈاون شروع کر رکھا ہے۔ سنکیانگ میں عوامی عدالت عام ہوتی جا رہی ہے جو کھلے اسٹیڈیم میں لگائی جاتی ہیں جس پر انسانی حقوق کے اداروں کی جانب شدید تنقید بھی سامنے آ رہی ہے۔
اردو ٹائمز
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام