یہ مسجد مغربی کنارے کے گاوں المغائر میں واقع ہے۔ جہاں شیلو نامی بستی سے تعلق رکھنے والے یہودی آباد کاروں نے اس مسجد پر حملہ کیا ہے۔
اس علاقے میں بھی انتہا پسند یہودی آباد کار وقفے وقفے سے فلسطینیوں کو نشانہ بناتے رہتے ہیں۔ اسی گاوں میں 2012 میں بھی ایک مسجد کو یہودی انتہا پسندوں نے جلا دیا تھا۔
ایک اور واقعے میں نامعلوم حملہ آوروں نے یہودی عبادت گاہ پر پٹرول بموں سے حملہ کیا ہے۔ اسرائیلی پولیس کے مطابق اس حملے سے زیادہ نقصان نہیں ہوا ہے۔
واضح رہے کہ ایک روز قبل اسرائیلی فوجیوں نے فائرنگ کرکے مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں ایک فلسطینی کو شہید کر دیا تھا۔ اسرائیلی فوج اس علاقے میں مسلسل پرتشدد کارروائیاں کر رہی ہیں۔
فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے ان واقعات کے حوالے سے اسرائیل پر مذہبی جنگ شروع کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان