نائیجیریا میں شدت تنظیم بوکو حرام نے حکومت سے مفاہمت کی خبروں کی تردید کردی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق بوکو حرام کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو میں تنظیم کے سربراہ ابو بکر شیخو نے کہا ہے کہ حکومت کے ساتھ ان کی کوئی ڈیل نہیں ہوئی ہے، اس طرح کے غلط پراپیگنڈے سے نائیجیرین حکومت اور بوکو حرام کے درمیان مستقبل میں ہونے والے امن مذاکرات منسوخ ہوسکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 3 ماہ قبل اسکول سے اغوا کی گئی 219 لڑکیاں اب بھی ان کے قبضے میں ہیں تاہم انہوں نے اسلام قبول کرلیا ہے جس کے بعد ان کی شادیاں کرادی گئیں ہیں۔
واضح رہے کہ بوکو حرام نائیجیریا میں شدت پسند مسلح تنظیم ہے، اس تنظیم نے نائجیریا کے خلاف بغاوت شروع کر رکھی ہے۔ 2009 میں بوکوحرام کی بغاوت شروع ہونے کے بعد سے مختلف وارداتوں میں اب تک ہزاروں افراد مارے جا چکے ہیں۔
ایکسپریس نیوز
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید