غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق 800 سے زائد طالبان نے صوبہ ہلمند کے علاقے سینگین پر قبضے کے لئے جدید ہتھیاروں سے لیس ہوکر بڑا حملہ کیا ہے اورگزشتہ 5 روز سے جاری ان جھڑپوں میں طالبان نے دعویٰ کیا ہے وہ 40 سے زائد افغان فوجیوں کو ہلاک کرچکے ہیں جب کہ لڑائی میں ہمارے صرف 2 جنگجو مارے گئے۔
افغان وزیر داخلہ کے ترجمان نے طالبان کے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اضافی فوجی نفری متاثرہ علاقے میں بھیج دی گئی ہے جب کہ علاقے پر فوج کا مکمل کنٹرول ہے، دوسری جانب ہلمندصوبے کے گورنر کے ترجمان نے بتایا کہ 5 دن کی لڑائی میں کم از کم 21 فوجی ہلاک اور 40 زخمی ہوچکے ہیں۔
واضح رہے کہ ضلع سنگین ہلمند صوبے کے شمالی حصے میں واقع ہے اور دفاعی اعتبار سے ایک حساس علاقہ ہے جہاں منشیات کے اسمگلر اور طالبان بہت سرگرم ہیں اور اس ضلع کی سرحدیں پاکستان سے بھی ملتی ہیں، گزشتہ ہفتے ہلمند میں ایک دھماکے میں 3 امریکی فوجی بھی مارے گئے تھے جب کہ اس علاقے میں تعینات برطانوی فوجی گزشتہ ماہ علاقے کی چوکی خالی کرکے لشکر گاہ میں واقع بیس کیمپ منتقل ہو گئی تھیں۔
ایکسپریس نیوز
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان