غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اینٹی بلاکا کے نام سے سرگرم عیسائی ملیشیا کے مسلح دہشت گردوں کے حملے کے بعد کشیدگی بڑھ گئی۔ افریقن یونین فورس ایم آئی ایس سی اے کے حکام نے دارالحکومت بنگوئی سے 380 کلومیٹرشمال مغرب میں واقع کان کنی کے حوالے معروف قصبے بمبری میں پیر سے جاری فسادات میں 50 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق حملے کے بعد مشتعل مسلمان نوجوانوں نے جوابی کارروائیاں شروع کردیں اور فسادات نے پورے قصبے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں موجود غیر ملکی فوجی دستے تشدد کے تازہ واقعات پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن انھیں تاحال کامیابی نہیں ہوئی ہے۔ خیال رہے کہ جمہوریہ وسطی افریقہ میں گزشتہ ایک سال سے مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان جاری جھڑپوں کے نتیجے میں اب تک ہزاروں افراد مارے جاچکے ہیں۔ لگ بھگ 10 لاکھ لوگوں کو اپنے گھروں سے بے دخل ہونا پڑا ہے اور ملک کی بیشتر مسلمان آبادی سوڈان اور چاڈ سے منسلک ملک کے شمالی علاقوں کی طرح ہجرت کر گئی ہے۔
ایکسپریس نیوز
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان