وزارت داخلہ کے حکام نے بتایا ہے کہ ”موصل کا شہر سرکاری افواج کے ہاتھ سے نکل گیا ہے اور اب عسکریت پسندوں کے رحم و کرم پر ہے۔” واضح رہے یہ دوسرا شہر ہے جس پر رواں سال کے دوران عسکریت پسندوں نے قبضہ کر لیا ہے۔
عسکریت پسندوں کو یہ کامیابی چار دن کی لڑائی کے بعد حاصل ہوئی ہے۔ موصل شہر کے گورنر اثيل النجيفی کو حکومتی ہیڈ کوارٹرز میں یرغمال بنا لیا گیا تھا، تاہم بعد ازاں پولیس نے گورنر کو بازیاب کرا لیا ہے۔
عسکریت پسند سیکڑوں کی تعداد میں شہر میں گاڑیوں پر بھاری اسلحے کے ساتھ گشت کر رہے ہیں۔ گاڑیوں پر عسکریت پسندوں نے مشین گنیں نصب کر رکھی ہیں۔
گورنر نے اہل شہر سے عسکریت پسندوں کا مقابلہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ ” میں شہریوں سے اپیل کرتا ہوں کہ اپنے اپنے علاقوں میں مسلح مداخلت کاروں کا مقابلہ کریں۔”
واضح رہے موصل کا مغربی حصہ مکمل طور پر اسلامی عسکریت پسندوں کے مکمل کنٹرول میں ہے۔ عسکریت پسند بتدریج آگے بڑھ رہے ہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار