غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق نیٹو فورسز نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے اپنی پالیسی کے تحت واقعہ سے متعلق تفصیلات بتانے سے انکار کردیا۔ نیٹو پالیسی کے مطابق مرنے والے اہلکاروں کی تفصیلات اُن کے ملک کے علاوہ کسی اور کو نہیں بتائی جاسکتی۔ زابل پولیس کے سربراہ جنرل غلام سخی کے مطابق پیر کی صبح افغان فوج اور نیٹو فورسز کے اہلکار مشترکہ آپریشن کے بعد واپس جارہے تھے کہ ان پر حملہ ہوا۔
دوسری جانب افغان طالبان نے نیٹو فورسز پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان کے جنوبی صوبے زابل کے ضلع ارغنداب میں فورسز پر حملے کے نتیجے میں افغان اور نیٹو فورسز کے متعدد اہلکار مارے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ افغانستان میں نیٹو فورسز پر تازہ حملے میں ہونے والی ہلاکتوں کے بعد اِس سال افغانستان میں مرنے والے نیٹو فورسز کے اہلکاروں کی تعداد 37 ہوگئی ہے جس میں 9 سروز ممبر بھی شامل ہیں۔
ایکسپریس نیوز
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار