غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق نیٹو فورسز نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے اپنی پالیسی کے تحت واقعہ سے متعلق تفصیلات بتانے سے انکار کردیا۔ نیٹو پالیسی کے مطابق مرنے والے اہلکاروں کی تفصیلات اُن کے ملک کے علاوہ کسی اور کو نہیں بتائی جاسکتی۔ زابل پولیس کے سربراہ جنرل غلام سخی کے مطابق پیر کی صبح افغان فوج اور نیٹو فورسز کے اہلکار مشترکہ آپریشن کے بعد واپس جارہے تھے کہ ان پر حملہ ہوا۔
دوسری جانب افغان طالبان نے نیٹو فورسز پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان کے جنوبی صوبے زابل کے ضلع ارغنداب میں فورسز پر حملے کے نتیجے میں افغان اور نیٹو فورسز کے متعدد اہلکار مارے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ افغانستان میں نیٹو فورسز پر تازہ حملے میں ہونے والی ہلاکتوں کے بعد اِس سال افغانستان میں مرنے والے نیٹو فورسز کے اہلکاروں کی تعداد 37 ہوگئی ہے جس میں 9 سروز ممبر بھی شامل ہیں۔
ایکسپریس نیوز
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام