Categories: افغانستان

افغانستان سے 2016ء تک امریکی فوج کی مکمل واپسی

امریکی صدر براک اوباما نے اس سال کے اختتام تک جنگ زدہ افغانستان میں تعینات امریکی فوج کی تعداد میں نمایاں کمی کرنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ 2016ء کے اختتام تک تمام امریکی فوجیوں کو واپس بلا لیا جائے گا۔

براک اوباما نے منگل کی شام وائٹ ہاؤس کے روزگارڈن سے تقریر کرتے ہوئے امریکی فوج کے انخلاء کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ 11 ستمبر 2001ء کو امریکا پر دہشت گردی کے حملوں کو ایک ماہ کے اندر ہی امریکی فوج کو افغانستان بھیج دیا گیا تھا۔اس نے القاعدہ کی قیادت کو نشانہ بنایا، اسامہ بن لادن کو ختم کردیا اور افغانستان کو امریکا کے خلاف ایک اڈا نہیں بننے دیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ”ہم امریکیوں کی توقع سے بڑھ کر افغانستان میں مقیم رہے ہیں لیکن ہم نے جس کام کا آغاز کیا تھا،اب اس کو ختم کرنے جارہے ہیں”۔براک اوباما نے افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس سال کے اختتام تک امریکا کا جنگی مشن باضابطہ طور پر ختم ہوجائے گا اور پھر وہاں قریباً دس ہزار فوجی ہی رہیں گے جو افغان سکیورٹی فورسز کی تربیت اور انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں پر اپنی توجہ مرکوز کریں گے۔
انھوں نے کہا:”اب وقت آگیا ہے کہ گذشتہ ایک عشرے سے جاری خارجہ پالیسی کے صفحے کو پلٹ دیا جائے جس کے دوران ہماری توجہ کا محور افغانستان اور عراق میں جنگیں رہی ہیں۔ہمیں اس بات کو تسلیم کرنا ہوگا کہ افغانستان ایک مکمل طور پر پُرامن جگہ نہیں بن سکتا اور وہاں قیام امن کی ذمے داری امریکا کی نہیں ہے۔افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ افغانوں ہی کو کرنا چاہیے”۔
اوباما کا کہنا تھا:”افغانستان سے امریکی فوج کا انخلاء امریکا کی خارجہ پالیسی میں ایک نیا باب ہوگا۔اس سے ان جنگوں کے خاتمے سے دستیاب ہونے والے وسائل ہم دہشت گردی کے تبدیل ہوتے ہوئے خطرے کے مقابلے کے لیے صرف کرسکیں گے”۔
انھوں نے خیال ظاہر کیا:”امریکی یہ بات جان گئے ہیں کہ جنگوں کو شروع کرنے سے انھیں ختم کرنا زیادہ مشکل ہے”۔انھوں نے کہا کہ ان کے افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء کے منصوبے کا انحصار دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ سکیورٹی معاہدے پر دستخطوں پر ہے”۔
واضح رہے کہ موجودہ افغان صدر حامد کرزئی نے اس معاہدے پر دستخط کرنے سے انکار کردیا تھا جبکہ دونوں صدارتی امیدوار ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی نے اپنی اپنی کامیابی کی صورت میں اس معاہدے کی منظوری کا عندیہ دے چکے ہیں۔
امریکی صدر کے اعلان کردہ منصوبے کے تحت اس وقت افغانستان میں موجود بتیس ہزار امریکی فوجیوں میں سے دوتہائی سے زیادہ کو اگلے سال کے آغاز تک واپس بلا لیا جائے گا اور وہاں صرف نوہزار آٹھ سو فوجی تعینات رہیں گے۔وہ لڑاکا مشنوں میں شریک نہیں ہوں گے بلکہ صرف افغان سکیورٹی فورسز کو تربیت دینے کا کام کریں گے۔
2015ء میں افغانستان میں رہ جانے والے فوجیوں کی تعداد میں نصف تک کمی کی جائے گی اور وہاں رہ جانے والے فوجی صرف دارالحکومت کابل اور بگرام ائیربیس تک ہی محدود رہیں گے۔2016 ء کے اختتام تک ان فوجیوں کو بھی واپس بلا لیا جائے گا اور صرف ایک ہزار فوجی کابل میں امریکی سفارت خانے اور ایک سکیورٹی دفتر کی کی حفاظت کے لیے مامور رہیں گے اور جنوری 2017ء میں جب براک اوباما صاحب وائٹ ہاؤس سے رخصت ہوں گے تو اس کے ساتھ ہی افغانستان میں امریکی فوج کا ہرطرح کا مشن مکمل ہوجائے گا اور باقی ماندہ فوجیوں کو بھی واپس بلا لیا جائے گا۔
امریکی فوج کے ساتھ نیٹو فوجی بھی چند ایک ہزار کی تعداد میں افغانستان میں تعینات رہیں گے اور آیندہ سال کے آغاز کے موقع پر نیٹو اور امریکی فوج کی کل تعداد بارہ ہزار کے لگ بھگ ہوگی۔یادرہے کہ افغانستان میں گذشتہ تیرہ سال کے دوران جنگی کارروائیوں میں قریباً دو ہزار دو سو امریکی فوجی مارے گئے ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں مزاحمت کاروں کے ساتھ لڑائی میں زخمی ہوئے ہیں۔ان زخمیوں کی دل جوئی کے لیے صدربراک اوباما نے گذشتہ اتوار کو افغانستان کا اچانک دورہ کیا تھا اور بگرام ائیربیس میں ایک اسپتال میں زیرعلاج امریکی فوجیوں کی عیادت کی تھی۔

 العربیہ ڈاٹ نیٹ

 

 

 

modiryat urdu

Recent Posts

“پابندیوں میں اضافہ”، “طویل جنگ” اور “پرانی پالیسیوں پر اصرار” ملک کو مزید بحرانوں کی طرف دھکیل رہے ہیں

"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…

4 days ago

لاہور ہائیکورٹ کا افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نہ نکالنے کا تحریری حکم آگیا

لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…

4 days ago

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

1 week ago

حقوق انسانی، عالمی منشور اور سیرتِ نبویﷺ

مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…

2 weeks ago

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں بول پڑے

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…

2 weeks ago

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

2 weeks ago