کیمیائی ہتھیاروں کے ماہرین کی یہ ٹیم حقائق کی جانکاری کے لیے صوبے ہاما میں موجود تھی۔ تاہم حملے میں عالمی ادارے کی اس ٹیم کے تمام ارکان محفوظ رہے ہیں۔
او پی سی ڈبلیو کے ترجمان مائیکل لوہان کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق” ٹیم کے تمام ارکان محفوظ ہیں اور واپس اپنے آپریشنل بیس کی طرف آ رہے ہیں”۔
بیان کے مطابق ٹیم ایک ایسی سائٹ دیکھنے کیلیے جا رہی تھی جہاں مبینہ طور پر کلورین گیس سے حملے کیے گئے تھے کہ راستے میں معائنہ کاروں کو حملے کا سامنا کرنا پڑا۔
واضح رہے اے ایف پی نے اس سے پہلے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ کیمیائی معائنہ کاروں کی اس ٹیم کو اغوا کر لیا گیا ہے۔ اب تک شام کے کیمیائی ہتھیاروں کا 92 فیصد حصہ شام سے باہر لے جا کر تلف کیا جا چکا ہے جبکہ صرف آٹھ فیصد کیمیائی ہتتھیاروں کی تلفی باقی ہے۔
شامی کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی کا معاہدہ پچھلے امریکا اور روس کے درمیان اس واقعے کے بعد طے پایا تھا جب ماہ اگست میں دمشق کے نواح میں الغوطہ کو کیمیائی ہتھیاروں سے نشانہ بنایا گیا۔ اس واقعے میں 1400 کے قریب شہری ہلاک ہو گئے تھے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
رسولِ اکرم ﷺ کا میلاد «نور و رحمت کا میلاد» اور «انسانیت پر اللہ تعالیٰ…
صوبے اور ملک میں انتہاپسندی سے کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوا اور نہ ہی ہوگا؛…
سنی بلوچ علما کے خلاف بڑھتے ہوئے سکیورٹی دباؤ اور تعاقب کے درمیان گزشتہ دنوں…
سیستان و بلوچستان کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے اشتعال انگیز بیانات پر علما، قبائل اور…
زم زم کا پانی روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان اور لا زوال…
غزہ میں درجنوں فلسطینی صحافیوں نے پیر کے روز الجزیرہ چینل سے وابستہ اپنے 6…