کمرہ نماز کی تالا بندی پر فرانسیسی پروفیسر کی دھنائی

فرانس کے دارالحکومت پیرس کے نوح میں واقع سینٹ ڈینز یونیورسٹی کے انسٹیٹیوٹ آف ٹکنالوجی کے ڈائریکٹر کو جامعہ میں جائے نماز کی تالا بندی کی کوشش مہنگی پڑ گئی اور طلباء نے اس کی پھینٹی لگا دی۔

اطلاعات کے مطابق ڈائریکٹر ٹکنالوجی انسٹیٹیوٹ صموئیل مایول کو اندازہ نہیں تھا کہ مسلمان طلباء کے زیر استعمال کمرہ نماز کو بند کیے جانے کا انجام اتنا خوفناک ہو سکتا ہے ورنہ وہ ایسا کرنے سے قبل کئی بار سوچتا۔ تاہم اس نے مسلمان طلبا کو کمرے میں نماز سے روک کر خود ہی اپنے آپ کو مصیبت میں ڈالا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق صموئیل مایول اور سینٹ ڈینز یونیورسٹی کے مسلمان طلباء کے درمیان تناؤ پچھلے کئی ماہ سے جاری ہے۔ گو کہ یونیورسٹی کے جس کمرے پر تنازعہ پیدا ہوا وہ میٹنگ ہال اور تقریبات کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے لیکن رواں سال کے آغاز میں مسلمان طلباء نے اس میں نماز کی ادائی شروع کر دی جسے غیر علانیہ طور پر مسجد کا درجہ حاصل ہو گیا تھا،تاہم اس کے باوجود جامعہ کی انتظامیہ نے ہال کو مسجد کے طور پر استعمال کرنے کی باضابطہ طور پر اجازت نہیں دی تھی۔

یونیورسٹی سے ملحقہ ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر صموئیل نے طلباء کو وہاں پر نماز کی ادائی سے متعدد مرتبہ منع کیا تو وہ اس پر سخت برہم ہوئے اور نوبت صموئیل کو جان سے مار دینے کی دھمکیوں تک جا پہنچی۔ یہ دھمکیاں اس وقت عملی شکل میں سامنے آئیں جب صموئیل مایول نے نماز کے لیے استعمال کیے جانے والے کمرے کو تالہ لگا دیا۔ صموئیل کے اقدام کے رد عمل میں گذشتہ بدھ کو رات کے وقت ایک تقریب کے دوران نامعلوم افراد نے اس پر حملہ کر دیا اور اس کی خوب پٹائی کی۔

صموئیل کی دھنائی کی خبر فرانسیسی میڈیا میں جنگل کی آگ کی طرح پھیلی اور کچھ ہی دیر بعد فرانسیسی وزیر تعلیم بینوا آمون کا ایک مذمتی بیان بھی سامنے آ گیا۔ انہوں نے صموئیل پر تشدد کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور حملہ آوروں کو تلاش کرکے ان کے خلاف فوری قانونی کارروائی اور صموئیل کو سیکیورٹی فراہم کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔

آمون کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی کے عہدیدار اور ممتاز دانش ور پر حملہ مجرمانہ کارروائی ہے۔ ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا بلکہ صموئیل کو رواں سال کے دوران کم سے کم 10 دھمکی آمیز پیغامات موصول ہو چکے ہیں۔ جن میں انہیں جان سے مارنے اور ان کے عزیز واقارب کو حملوں کا نشانہ بنانے کی دھمکیاں بھی شامل ہیں۔
پیرس پولیس کی جانب سے 42 سالہ مجروح پروفیسر صموئیل مایول کی کوئی تازہ تصاویر جاری نہیں کی گئی تاہم فرانسیسی ابلاغی، سیاسی اور تعلیمی حلقوں میں اس پر حملے کی سخت مذمت کی جا رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق صموئیل مایول کے خلاف دھمکی آمیز پیغامات اس وقت آنے شروع ہوئے تھے جب ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ کے شمالی افریقا کے مسلمان ملک سے تعلق رکھنے والے ایک عہدیدار کو محض اس الزام میں برطرف کیا گیا تھا کہ وہ من پسند افراد کو بھرتی کرتا اور انہیں مفت میں تنخواہیں جاری کرتا ہے۔

العربیہ

 

 

 

modiryat urdu

Recent Posts

“پابندیوں میں اضافہ”، “طویل جنگ” اور “پرانی پالیسیوں پر اصرار” ملک کو مزید بحرانوں کی طرف دھکیل رہے ہیں

"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…

4 days ago

لاہور ہائیکورٹ کا افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نہ نکالنے کا تحریری حکم آگیا

لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…

4 days ago

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

1 week ago

حقوق انسانی، عالمی منشور اور سیرتِ نبویﷺ

مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…

2 weeks ago

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں بول پڑے

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…

2 weeks ago

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

2 weeks ago