ان لاشوں کی اصل تعداد کے بارے میں حکام اور بلوچ قوم پرست تنظیموں کے اعداد و شمار میں کافی تضاد پایا جاتا ہے۔ تاہم پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے محکمہ داخلہ و قبائلی امور نے کہا ہے کہ بلوچستان میں سال2010 سے ستمبر 2013 تک 612 تشدد زدہ لاشیں ملیں ہیں۔
یہ اعداد و شمار محکمہ داخلہ کی جانب سے بلوچستان اسمبلی میں ایک تحریری جواب میں پیش کیےگئے ہیں ۔
حزب اختلاف کے رکن اور بی این پی کے سربراہ سردار اختر مینگل کی جانب سے پوچھے جانے والے ایک سوال پر حکومت نے بتایا کہ تیس سال کے عرصے میں بلوچستان کے مختلف علاقوں سے کل 612 مسخ شدہ لاشیں ملیں۔
ان اعداد و شمار کے مطابق بر آمد ہونے والی لاشوں میں سے 373 لاشیں بلوچوں اور 95 پشتونوں کی تھیں۔ 73 لاشیں دوسری قومیتوں ( ہزارہ، پنجابیوں اور افغانیوں کے علاوہ خواتین اور بچوں) کی تھیں۔ جبکہ ان میں سے 71 لاشیں ناقابل شناخت تھیں۔
یاد رہے کہ بلوچستان میں تشدد زدہ لاشوں کی برآمدگی سے متعلق میڈیا میں خبروں کی اشاعت اور نشر ہونے کا سلسلہ 2008ء سے شروع ہوا تھا۔
تاہم محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان نے ان لاشوں کی برآمدگی سے متعلق مقدمات کے اندراج کا سلسلہ سپریم کورٹ کے حکم پر سن 2010ء سے شروع کیا تھا۔ اسی طرح بلوچستان سے لاپتہ افراد سے متعلق پوچھے جانے والے ایک سوال پر محکمہ داخلہ نے کہا ہے کہ لاپتہ افراد کی تعداد 173ہے۔
بلوچستان سے لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم وائس فار مسنگ بلوچ پرسنز نے محکمہ داخلہ کی جانب سے پیش کیے جانے والے اعداد و شمار کو مسترد کیا ہے۔
تنظیم کے وائس چیئر مین قدیر بلوچ نے بی بی سی کو بتایا کہ بلوچستان سے لاپتہ افراد کی تعداد 19 ہزار سے زیادہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 19 ہزار سے زیادہ لاپتہ افراد کی فہرست اقوام متحدہ اور یورپی یونین کو بھی پیش کی گئی ہے۔
تشدد زدہ لاشوں کی برآمدگی سے متعلق وائس فار مسنگ بلوچ پرسنز کا دعویٰ ہے کہ ان کی تعداد دو ہزار سے زائد ہے۔
بی بی سی اردو
رسولِ اکرم ﷺ کا میلاد «نور و رحمت کا میلاد» اور «انسانیت پر اللہ تعالیٰ…
صوبے اور ملک میں انتہاپسندی سے کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوا اور نہ ہی ہوگا؛…
سنی بلوچ علما کے خلاف بڑھتے ہوئے سکیورٹی دباؤ اور تعاقب کے درمیان گزشتہ دنوں…
سیستان و بلوچستان کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے اشتعال انگیز بیانات پر علما، قبائل اور…
زم زم کا پانی روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان اور لا زوال…
غزہ میں درجنوں فلسطینی صحافیوں نے پیر کے روز الجزیرہ چینل سے وابستہ اپنے 6…