لاکھوں اہل شام پڑوسی ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہو چکے ہیں۔
بشار رجیم جس نے اپنے ہی عوام پر بمباری کو معمول بنا رکھا ہے اور بھوک کو اپنے شہریوں کیخلاف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ ان حالات میں شام کی متحدہ اپوزیشن ایسے کسی انتخاب کو قبول کرنے کو تیار نہیں جس کا مقصد بشارالاسد یا اس کی ٹیم کو ایک مرتبہ پھر شام پر مسلط کرنا ہو۔ تاہم فوری طور اپوزیشن کا شام کے سایسی مستقبل کے تعین کیلیے جنیوا میں ہونے والی دوسری امن کانفرنس ناکام ہونے کے بعد بشار رجیم نے ایک مرتبہ پھر پوری قوت سے مخالفین کو کچلنے کی حکمت عملی اپنا لی ، اس وجہ سے اسی مرتبہ پھر بشار رجیم پر کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کا بھی الزام لگایا ہے۔
لیکن پیر کے روز شامی پارلیمان کے سپیکر نے پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کے دوران باضابطہ اعلان کر دیا ہے کہ اگلے صدارتی انتخابات 3 جون کو ہوں گے۔ سپیکر نے صدارتی انتخاب کے لیے پولنگ کے وقت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پولنگ صبح سات بجے سے شام سات بجے تک جاری رہے گی۔ فوری طور پر متحدہ اپوزیشن اتحاد کی طرف سے مجوزہ انتخاب پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار