علامہ قرضاوی نے ٹویٹر اور فیس بْک پر اپنے صفحے پر لکھا ہے کہ ”میں نے استعفیٰ دے دیا ہے”۔ انھوں نے تاریخی جامعہ الازہر کے سربراہ شیخ احمد الطیب پر الزام عائد کیا ہے کہ انھوں نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے فوجی انقلاب کی حمایت کی تھی۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ”ہم شیخ الازہر کا انتظار ہی کرتے رہ گئے کہ وہ راہ راست پر آجائیں گے اور خود کو طاغوتی رجیم سے لاتعلق کرلیں گے”۔ ان کا اشارہ مصر کی مسلح افواج کی نگرانی میں قائم عبوری حکومت کی جانب تھا۔ مصری نژاد علامہ قرضاوی مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی کے ہاتھوں 3 جولائی کو منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی کی شدید مخالفت کرتے چلے آ رہے ہیں۔ وہ قطر کے سیٹلائٹ چینل الجزیرہ پر باقاعدہ مذہبی موضوعات پر تقریریں کرتے رہتے ہیں اور انھوں نے کچھ عرصہ قبل ایک فتویٰ جاری کیا تھا جس میں مصریوں پر زوردیا تھا کہ وہ ڈاکٹر مرسی کو ان کے آئینی عہدے پر بحال کریں۔ علامہ قرضاوی کی اس وقت عمر چھیاسی برس ہے۔ وہ مصر سے تعلق رکھتے ہیں لیکن پانچ عشرے قبل سابق صدر جمال عبدالناصر کے دور میں ان کو حکومت پر تنقید کی پاداش میں آبائی وطن کی شہریت سے محروم کر دیا گیا تھا اور وہ تب سے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں رہ رہے ہیں۔ جمال عبدالناصر کے دورحکومت میں اخوان المسلمون کی قیادت اور کارکنان پر ظلم وتشدد کے پہاڑ توڑے گئے تھے اور علامہ قرضاوی کو 1950 کے عشرے میں کئی مرتبہ جیل میں ڈالا گیا تھا جس کے بعد وہ 1961 میں مصر سے ہجرت کرکے قطر چلے گئے تھے۔ وہ فروری 2011 میں سابق مطلق العنان صدر حسنی مبارک کی عوامی احتجاجی مظاہروں کے نتیجے میں اقتدار سے رخصتی کے معاً بعد اپنے آبائی وطن لوٹے تھے اور انھوں نے پورے پچاس سال کے بعد پہلی مرتبہ اپنی آبائی سرزمین پر قدم رکھا تھا۔ انھوں نے قاہرہ کے مشہور میدان التحریر میں ہزاروں افراد کے اجتماعات سے خطابات کیے تھے اورنمازوں میں ان کی امامت کی تھی۔
اردو ٹائمز
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام