Categories: فقہ و احکام

بطخ اور كبوتر كا گوشت كھانے كا حكم

كيا بطخ اور كبوتر كا گوشت كھانا جائز ہے ؟

الحمد للہ:
كھانے اور پينے والى اشياء ميں اصل حلت ہے جب تك اس كى حرمت كى كوئى دليل نہ مل جائے.
اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:
{ اس اللہ تعالى نے زمين ميں جو كچھ بھى ہے وہ سب تمہارے ليے پيدا كيا ہے }البقرۃ ( 29 ).
اور ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما سے مروى ہے انہوں نے فرمايا كہ:
” اہل جاہليت كچھ اشياء كو كھاتے اور كچھ اشياء كو گندا سمجھ كر چھوڑ ديتے تو اللہ سبحانہ و تعالى نے اپنے نبى صلى اللہ عليہ وسلم كو مبعوث كيا اور اپنى كتاب نازل فرمائى اور حلال كو حلال اور حرام كو حرام كيا، چنانچہ اللہ تعالى نے جو حلال كيا ہے وہ حلال ہے، اور جسےحرام كيا وہ حرام ہے، اور جس سے خاموشى اختيار كى ہے وہ معاف ہے، پھر انہوں نے يہ آيت تلاوت فرمائى:
{ كہہ ديجئے كہ جو احكام ميرى طرف بذريعہ وحى آئے ہيں ان ميں تو ميں كوئى حرام نہيں پاتا كسى كھانے والے كے ليے جو اس كو كھائے، مگر يہ كہ وہ مردار ہو يا كہ بہتا ہوا خون ہو يا خنزير كا گوشت ہو، كيونكہ يہ بالكل ناپاك ہے، يا جو شرك كا ذريعہ ہو كہ غير اللہ كے ليے نامزد كر ديا گيا ہو }الانعام ( 145 ). اسے ابوداود ( 3306 ) نے روايت كيا اور علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح قرار ديا ہے.
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ كہتے ہيں:
” دوسرى قسم: جس ميں كوئى مانع وارد نہ ہو تو وہ حلال ہے، ليكن شرط يہ ہے كہ وہ ذبح كى جائے مثلا بطخ اور پانى كے دوسرے پرندے ” انتہى
ماخوذ از فتح البارى.
بطخ اور كبوتر كے حرام ہونے كى كوئى دليل وارد نہيں ہے اس ليے ہم اصل كى طرف ديكھيں كہ جو كہ اباحت ہے بلكہ كبوتر كے كھانے كى حلت كى دليل مل سكتى ہے، كيونكہ صحابہ كرام نے حرم كےكبوتر كو حالت احرام ميں شكار كرنے والے پر ايك بكرى ذبح كرنے كا حكم لگايا ہے، تو يہ اس كے كھانے كى حلت كى دليل ہے.
ابن قدامہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:
” عمر اور عثمان اور ابن عمر اور ابن عباس اور نافع بن عبد الحارث رضى اللہ تعالى عنہم اجمعين نے اسى كا حكم ديا ہے ” انتہى
ديكھيں: المغنى ( 3 / 274 ).
امام نووى رحمہ اللہ كہتے ہيں:
” ہمارے اصحاب اس پر متفق ہيں كہ شتر مرغ اور مرغى كھانا حلال ہے…. اور بطخ اور چڑيا اور چنڈول چڑيا اور تيتر اور كبوتر بھى… ” انتہى
ديكھيں: شرح المھذب ( 7 / 22 ).
اور ايك مقام پر رقمطراز ہيں:
” جو جانور پانى اور خشكى ميں رہتا ہے وہ بھى حلال ہے اس ميں پانى كے پرندے مثلا بطخ اور مرغابى وغيرہ بھى آتى ہيں اور يہ حلال ہيں جيسا كہ بيان ہو چكا ہے، ليكن يہ مرى ہوئى حلال نہيں ہونگى بلكہ اس كے ليے بغير كسى اختلاف كے ذبح كرنے كى شرط ہے ” انتہى
ديكھيں: المھذب ( 9 / 35 ).
واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب

 

 

 

modiryat urdu

Recent Posts

اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت سب سے بڑا جہاد ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…

1 week ago

اقبال اور فلسطین: ہے خاک فلسطین پہ یہودی کا اگر حق

دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…

2 weeks ago

معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار

معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار

2 weeks ago

غسل کعبہ کی روح پرور تقریب آج ہو گی

غسل کعبہ کی روح پرور تقریب آج ہو گی

2 weeks ago

اسرائیل کا غزہ میں بےگھر افراد پر حملہ، ماں اور بچوں سمیت 6 افراد شہید

غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں میں بے گھر افراد کے خیموں کو نشانہ بنایا گیا…

2 weeks ago

“کتاب و حکمت کی تعلیم” اور “معاشرے کی تزکیہ و اصلاح” رسولِ اکرم ﷺ کی بعثت کے بنیادی مقاصد میں شامل ہیں

قومی مفادات اور ایرانی عوام کی زندگی کو کسی دوسرے ملک یا قوم کے مفادات…

2 weeks ago