دارالحکومت ڈھاکا کی سیشن عدالت کے جج محمد اختر الزماں نے کئی برسوں تک جاری رہنے والی تحقیقات اور سماعت کے بعد جس کمرے میں فیصلہ سنایا اسے خصوصی طور پر تیار کیا گیا تھا، فیصلہ سناتے وقت کمرہ عدالت میں 823 فوجی اہلکاروں کے علاوہ ان کے عزیز و اقارب، اعلیٰ سرکاری و فوجی حکام، مقتول اہلکاروں کے ورثا اور میڈیا کے نمائندوں کی بڑی تعداد موجود تھی، عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ سابق فوجیوں کی جانب سے کئے گئے جرائم انتہائی سنگین نوعیت کے ہیں اور ان کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ بغاوت کے دوران ہلاک کئے گئے فوجی اہلکاروں اور ان کے اہل خانہ کی لاشوں کی بھی بے حرمتی کی گئی جس پر انہیں جس قدر سخت سزا دی جائے کم ہے، عدالت نے زیر حراست 823 اہلکاروں میں سے 152 کو سزائے موت، 160 کو عمر قید، 263 کو 10 سے 3 سال کی قید جبکہ 271 کو عدم ثبوت کی بنا پر بری کردیا۔
واضح رہے کہ 2009 میں بنگلا دیش کی سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ داری فورس کے اہلکاروں نے تنخواہوں اور دیگر مراعات میں اضافہ نہ ہونے کے خلاف بدظن ہوکر بنگلا دیش رائفلز کے اعلیٰ حکام کے سالانہ اجلاس پر دھاوا بول کر فورس کے سربراہ سمیت 74 اعلیٰ حکام اور ان کے اہل خانہ کو ہلاک کرکے ان کی لاشوں کے ٹکڑے کردیئے تھے جبکہ کئی کو زندہ جلا دیا تھا۔
ایکسپریس نیوز
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…