یہ انکشاف ایران کی سرکاری ٹی وی چینل “العالم” کی رپورٹ میں کیا گیا ہے جسکے مطابق امریکا میں اعداد و شمار کے ادارے پنتاپلیس نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ان عسکریت پسندوں کا تعلق 49 ملکوں سے ہے اور ان میں اکثریت کا تعلق “شدت پسند” گروہوں سے ہے۔ رپورٹ میں شام میں ہلاک ہونیوالے عرب عسکریت پسندوں کی تعداد بتائی گئی ہے جن میں سب سے زیادہ ہمسایہ عرب ممالک کے جنگجو ہیں۔
شام میں ان ممالک کے 714افراد مارے گئے ہیں۔
ادھرشامی صدر بشارالاسد نے ایک انٹرویو میں کہاہے کہ جب تک باغی ہتھیار نہیں پھینک دیتے مذاکرات ممکن نہیں، اپوزیشن کے کسی بھی غیر مسلح گروپ سے ملاقات کیلیے تیار ہیں، خانہ جنگی کے باعث ایک لاکھ افراد ہلاک ہوچکے ہیں، بیرونی مداخلت کی حمایت کرنیوالوں سے مذاکرات نہیں ہوں گے ۔
دریں اثنا اقوام متحدہ کی 6 رکنی تحقیقاتی ٹیم سویڈن کے ماہرین کی قیادت میں شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے معاملے کی تحقیقات کیلیے دمشق پہنچ گئی ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے بڑی طاقتوں کو شام کے حوالے سے پیدا ڈیڈلاک پربات کرنیکا کہاہے۔ بدھ کو ایک لنچ کے دوران امریکا ،چین ،روس اوربرطانیہ کے وزرائے خارجہ سے کہاکہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام کی کشیدہ صورتحال اورکیمیائی ہتھیاروں کے حوالے بات کریں۔
ایکسپریس نیوز
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…