غیر ملکی میڈیا کے مطابق بنگلہ دیش میں توہین رسالت کے نئے قانون کے خلاف لاکھوں افراد نے مظاہرے کئے اور دارالحکومت ڈھاکا کے داخلی و خارجی راستوں کو بلاک کر کے عملی طور پر دارالحکومت کا دوسرے شہروں سے رابطہ منقطع کر دیا۔
ذرائع کے مطابق مظاہرین ”اللہ اکبر“ کے نعرے لگاتے سڑکوں پر نکل آئے اور تمام سڑکیں بلاک کردیں، مظاہرین نے متعدد گاڑیاں جلائیں اور پولیس پر پتھراؤ کیا، پولیس نے مظاہرین کومنتشر کرنے کے لئے ربڑ کی گولیاں چلائیں۔
اس دوران مظاہرین کی پولیس سے جھڑپیں شروع ہوگئیں اور فائرنگ کے تبادلے میں 28 افراد جاں بحق اور 35 زخمی ہو گئے، پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کی شیلنگ بھی کی جوابی کاروائی کرتے ہوئے مشتعل مظاہرین نے پولیس پر خودساختہ پٹرول بم پھینکے اور پتھراؤ کیا، جھڑپوں کی وجہ سے پورا شہر میدانِ جنگ کا منظر پیش کرتا رہا، پولیس کے مطابق مظاہرین نے کئی دکانوں اور 30 گاڑیوں کو بھی نذر آتش کردیا۔
مشتعل مظاہرین یک نکاتی مطالبہ کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ لادین افراد کو ہر صورت پھانسی پر لٹکایا جائے، توہین رسالت کسی صورت برداشت نہیں کرینگے اور اگر حکومت نے مطالبہ تسلیم نہ کیا تو ملک گیر احتجاج کرینگے۔
ایکسپریس نیوز
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید