زخمیوں کی تعداد ایک ہزار سے زیادہ ہوچکی ہے۔ڈھاکاکے مضافاتی علاقے ساور میں رانا پلازہ گرنے سے سیکڑوں گھرانے اپنے عزیزوں سے محروم ہوگئے۔
ریسیکوعملے کا کہناہے کہ جس وقت بالائی منزل کی چھت گری اس وقت قریباً 2ہزار افراد اس بلڈنگ میں تھے جو نہ صرف رہائشی عمارت تھی بلکہ اس میں گارمنٹس فیکٹریاں اوربنک بھی تھا۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ انہیں محسوس ہوا کہ جیسے شدید زلزلہ آگیا ہو۔ لوگ اپنے پیاروں کی لاشیں دیکھ کرجذبات پرقابو نہ رکھ سکے۔
عمارت میں 5گارمنٹس فیکٹریاں تھیں جن میں زیادہ ترخواتین ملازم تھیں۔
اورایک فیکٹری کے مالک نے تسلیم کیا کہ دوسری منزل پر دراڑیں پڑی ہوئی تھیں۔عمارت گرنے سے زخمی ایک ہزارسے زائد افراد کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا جہاں امدادی سہولتیں ناکافی ہیں۔
جن افرادکے پیارے تلاش کرلیے گئے انہیں کچھ سکھ کاسانس ملامگرجن کے عزیزاب تک ملبے میں دبے ہیں،ان پرغم کا پہاڑ ٹوٹا ہے۔
عمارت میں کام کرنیوالے ملازمین میں سے کئی نے بلڈنگ میں دراڑیں پڑنے کی آواز سنتے ہی چھلانگیں لگادی تھیں جس کے سبب کوئی ہاتھ اور کوئی پیر سے معذور ہوا۔
بعض افرادجان بچانے کی کوشش میں جان سے گئے۔بنگلادیش کی گارمنٹس فیکٹریوں میں حادثات عام ہیں۔
نومبر میں ایک فیکٹری میں آگ لگنے سے 112افرادہلاک ہوگئے تھے۔
جیو نیوز
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان