غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق حملے کے وقت امریکی چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل مارٹن ڈیمپسی ایک مشاورتی دورے پر افغانستان میں موجود تھے، دھماکا جنوبی صوبے زابل کے صدر مقام قلات میں کیا گیا جس کے نتیجے میں 3 فوجی اور 2 سویلین باشندوں سمیت 5 امریکی شہری مارے گئے، سویلین باشندوں میں ایک نوجوان امریکی سفارت کار بھی شامل ہے جب کہ حملے میں ایک افغان ڈاکٹر بھی جاں بحق ہو گیا، دھماکے میں صوبائی گورنر محمد اشرف ناصری کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تاہم وہ محفوظ رہے۔
واضح رہے کہ ان ہلاکتوں سے اس سال افغانستان میں ہلاک ہونے والے غیر ملکی فوجیوں کی تعداد 30 ہو گئی ہے جن میں 22 امریکی شامل تھے۔
ایکسپریس نیوز
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان