غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق حملے کے وقت امریکی چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل مارٹن ڈیمپسی ایک مشاورتی دورے پر افغانستان میں موجود تھے، دھماکا جنوبی صوبے زابل کے صدر مقام قلات میں کیا گیا جس کے نتیجے میں 3 فوجی اور 2 سویلین باشندوں سمیت 5 امریکی شہری مارے گئے، سویلین باشندوں میں ایک نوجوان امریکی سفارت کار بھی شامل ہے جب کہ حملے میں ایک افغان ڈاکٹر بھی جاں بحق ہو گیا، دھماکے میں صوبائی گورنر محمد اشرف ناصری کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تاہم وہ محفوظ رہے۔
واضح رہے کہ ان ہلاکتوں سے اس سال افغانستان میں ہلاک ہونے والے غیر ملکی فوجیوں کی تعداد 30 ہو گئی ہے جن میں 22 امریکی شامل تھے۔
ایکسپریس نیوز
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…