پرویز مشرف کے کاغذات نامزدگی کو مقامی وکیل جاوید قصوری نے چیلنج کیا تھا اور یہ مؤقف اختیار کیا کہ جنرل پرویز مشرف آئین کے آرٹیکل باسٹھ اور ٹرسٹھ پر پورا نہیں اترتے ہیں اس لیے انہیں نااہل قرار دیا جائے۔
ادھر سابق فوجی آمر کے خلاف خلاف غداری کا مقدمہ چلانے کی درخواست سماعت کے لیے منظور کر لی گئی ہے۔ چیف جسٹس پاکستان افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں تین رکنی بنچ آٹھ اپریل کو اِس درخواست کی سماعت کرے گا۔ درخواست ہائی کورٹ بار راول پنڈی کے صدر توفیق آصف ایڈووکیٹ نے دائر کی ہے۔
پرویز مشرف کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے لیے الیکشن کمیشن میں مسلم لیگ [نواز] کے رہنما احسن اقبال کی جانب سے بیرسٹر ظفراللہ نے درخواست دائر کی ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ مشرف کئی مرتبہ آئین اور ملک سے غداری کرچکے ہیں۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پرویز مشرف لاپتا افراد، لال مسجد، اکبر بگٹی قتل اور بینظیر قتل کیس میں مطلوب ہیں۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ پرویز مشرف آرٹیکل 62،63 پر پورا نہیں اترتے، لہٰذا انہیں ملک کے کسی بھی حلقے سے انتخاب لڑنے کی اجازت نہ دی جائے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان